ًٰتحریک انصاف کا دور حکومت، مہنگائی نے مزدور کی آمدنی بڑھانے کے بجائے کم کردی

شیئر کریں:

مہنگائی میں اضافے کی رفتار نے عوام کی قوت خرید کم کردی گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی
مہنگائی کے تناسب سے دیکھا جائے تو عملی طور پر مزدور کی آمدنی میں اضافے کی بجائے کمی ہوئی
ہے۔ بنیادی اشیا ضروریہ کی قیمت 45 سے 133 فیصد تک بڑھی اور مزدور کی اجرت میں صرف 27
فیصد ہی اضافہ ہوا۔

پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران آٹا، گھی چاول چینی اور دوسری بنیادی اشیا خورونوش کی قیمت میں
133 فیصد تک کا اضافہ ہوا۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بھی 51 فیصد تک بڑھ گئیں لیکن مزدور کی آمدنی
میں صرف 27 فیصد ہی اضافہ ہو سکا۔

پاکستان ادارہ شماریات کی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 18 سے اکتوبر 21 تک اشیا خورونوش میں سے
سب سے زیادہ اضافہ گھی کی قیمت میں ہوا۔ تین سال میں گھی 133 فیصد مہنگا ہو گیا، فی کلو اوسط قیمت
153 روپے سے بڑھ کر 357 روپے ہو گئی،، چینی 84 فیصد مہنگی ہوئی،، ایک کلو کی اوسط قیمت 55
روپے سے بڑھ کر 101 روپے ہو گئی۔ آٹے کی قیمت میں 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک کلو کی
قیمت 39 روپے سے بڑھ کر 60 روپے تک پہنچ گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3 سال میں چکن کی قیمت میں 60 فیصد، دالوں کی قیمت میں 73 فیصد تک
، مٹن اور بیف کی قیمت میں 46 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 45 فیصد اضافہ ہوا،
زندہ چکن کی اوسط فی کلو قیمت 158 روپے سے بڑھ کر 252 روپے ہو گئی۔ مٹن 800 روپے سے بڑھ کر
1133 روپے فی کلو ہو گیا۔ انڈوں کی فی درجن اوسط قیمت 117 روپے سے بڑھ کر 170 روپے تک جا پہنچی۔

پیٹرول کی قیمت میں 3 سال میں 48 فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،
سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکومت نے بجلی کی قیمت میں 219 فیصد اضافہ کیا،، کم بجلی استعمال کرنے
والوں کے لیے ایک یونٹ کی قیمت 2 روپے سے بڑھا کر 6 روپے 38 پیسے کر دی۔
دوسری طرف اس دوران ایک مزدور کی یومیہ اجرت میں 27 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان ادارہ شماریات کے
مطابق اکتوبر 18 میں مزدور کی اوسطا یومیہ اجرت 667 روپے تھی جو اب 851 روپے ہے۔


شیئر کریں: