وی آئی پیز کی سیکیورٹی 84 کروڑ منظور، کفایت شعاری مہم پر؟

حکومت نے اپنی کفائت شعاری مہم کی خود ہی دہجیاں اڑا دی ہیں. لوگوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ فضول
خرچی نہ کی جائے اور لگژری اشیا نہ خریدی جائیں. اس کے برخلاف وفاقی کابینہ نے سیکیورٹی کیلیے
84 کروڑ روپے کی منظوری دے دی. اس رقم کے ذریعے وی آئی پیز کی سیکیورٹی اور آلات خریدے
جائیں گے.
ذرائع کا کہنا ہے کہ وی آئی پی کلچر نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے. چھوٹے سے چھوٹا وزیر اور
سیاستدان گاڑیوں کے جھرمٹ‌ میں‌ سڑکوں پر نکلتا ہے. یہی لوگ جب بیرون ملک جاتے ہیں‌ تو وہاں اکیلے
پھر رہے ہوتے ہیں.

گردشی قرضوں کا بوجھ 25 سو 36 ارب روپے ہوگیا

دوسری جانب وفاقی کابینہ کا 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دینے کی سمری ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا
دی. پارلیمنٹ پہلے ہی فنڈز کی فراہمی کے معاملے کو مسترد کر چکی ہے.
اس سے پہلے صبح ذرائع سے سرکاری سطح پر خبر چلوائی گئی کہ حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی
کے برخلاف صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے شاہی خرچے کیے جارہے ہیں.
صدر عارف علوی پراڈوز ،جدید جیمرز،ایمبولینس پر مشتمل شاہی سواری کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں.
عارف علوی شاہی لشکر میں ہی شام کو گالف کھیلنے جاتے ہیں. رات کو اسلام آباد کے مختلف ریستوران
میں بھی جاتے ہیں. شاہی سواری کے آگے پولیس کا پروٹوکول اور روٹ الگ ہوتا ہے.
اس کے برخلاف وزیراعظم اور وفاقی وزراء کی کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے. وزراء سے بڑی
گاڑیاں اور فیول لے لیا گیا ہے. وزیراعظم شہباز شریف کے پروٹوکول کو بھی کم کر دیا گیا اوربیوروکریسی
کی عیاشیاں بھی ختم کر دی گئیں. لیکن پروٹوکول کے لیے بڑا بجٹ کابینہ نے منظور کر کے اپنا اصل چہرہ
خود ہی بے نقاب کردیا ہے.