ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز بھی بلاک؟

شیئر کریں:

تعلیمی ادارے اورآن لائن کاروبار لیگل وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول، ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس اور ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز بلا روک ٹوک استعمال کرسکتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے اور آن لائن کاروبار اپنی سرگرمیاں آن لائن جاری رکھنے کے لئے لیگل وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول، ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس اور ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز بلا روک ٹوک استعمال کرسکتے ہیں۔
واٹس ایپ، اسکائپ، گوگل میٹس، زوم، بلیو جینز، سسکوویب ایکس، ٹیم ویوئر، میراکی وی پی این، وغیرہ جیسی تمام لیگل وی او آئی پی،وی پی این اور ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنزورچوئل ایجوکیشن اور بزنس میں استعمال کیلئے دستیاب ہیں۔
پی ٹی اے، ٹیلی کام رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق صرف ان وی او آئی پی اور وی پی این کے خلاف اقدام کررہا ہے۔
قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی غیر قانونی ٹیلی کام ٹریفک میں ملوث ہیں۔
میڈیا میں بعض عناصر کی طرف سے یہ تاثر کہ پی ٹی اے نے تمام لیگل وی او آئی پی، وی پی این اور ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز بند کردیئے ہیں، بالکل غلط ہے۔
انڈسٹری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ سروس پرووائڈرز کے ذریعہ بھیجی گئیں انٹرنیٹ پروٹوکول وائٹ لسٹنگ کی درخواستوں پر 24 گھنٹے کے اندر عمل ہوتا ہے۔
پی ٹی اے پاکستان میں صارفین کو اعلیٰ آئی سی ٹی سروسز فراہم کرنے میں پرعزم ہے۔


شیئر کریں: