وینٹی لیٹرز بھی موت بانٹنے لگے

شیئر کریں:

کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز موت کا شکنجہ بن گئے ہیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ امریکا میں وینٹی لیٹرز پر جانے والے 80 فیصد مریض اپنی جانوں سے جا چکے ہیں۔
ماہرین صحت نے وینٹی لیٹرز کے کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے لیے کارگر ہونے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کی گئی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر موثر ثابت نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیے: https://bit.ly/3akia7Uوینٹی لیٹر اب پاکستان میں بنیں گے

وینٹی لیٹرز پر جانے والے بیشتر مریض اسپتالوں میں جاں بحق ہوگئے۔
ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وینٹی لیٹر استعمال کرنے والے اسی فیصد مریض صحت یاب نہیں ہوسکے۔
اس سے پہلے ماہرین صحت کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر کو انتہائی موثر سمجھ رہے تھے۔
وینٹی لیٹرز کو سب سے پہلے چین میں کورونا متاثرین کے علاج کے لیے استعمال کیا گیا۔
کورونا سے جنگ لڑ رہے وہ مریض جن کے پھیپھڑے وائرس کی وجہ سے شدید متاثر ہوجاتے ہیں ان کو وینٹی لیٹرز کے ذریعے مصنوعی طریقے سے آکسیجن دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

 

مزید پڑھیے:https://bit.ly/3aioEnB پاکستان میں 4500 وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے

وینٹی لیٹرز کو دینا بھر میں مصنوعی سانس کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
چین میں کورونا وائرس کے علاج کے دوران وینٹی لیٹرز کے استعمال کے بعد دنیا بھر کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کا استعمال بڑھ چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کرہ ارض پر وینٹی لیٹرز کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے۔
دینا کے بیشتر ممالک باالخصوص یورپ نے چین سے لاکھوں وینٹی لیٹرز خریدنے کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
اب امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹر کا استعمال کورونا مریض کے لیے موت کے پنجرے سے زیادہ کچھ نہیں کیوں کہ مصنوعی طریقے سے سانس دینے کا عمل بھی موثر ثابت نہیں ہوا۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے صحت کے شعبہ کی اہمیت اور زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اس وبا نے کاروباری دنیا کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں اور اب وینٹی لینٹرز کے نام پر بھی انٹرنیشنل سیاست شروع ہو چکی ہے۔


شیئر کریں: