ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2020 کا آغاز جمعہ سے آسٹریلیا میں ہوگا

ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2020 کا جمعہ سے آسٹریلیا میں آغاز
شیئر کریں:

خواتین کرکٹ کا 7 واں ٹی 20 ورلڈ کپ جمعہ 21 فروری 2020 سے آسٹریلیا میں شروع ہورہا ہے

سڈنی میں میزبان ودفاعی چیمپئن آسٹریلیا کا مقابلہ بھارت سے ہوگا.

2009 سے شروع پونے والے ویمنز میگا ایونٹ نے وقت کے ساتھ اپنی اہمیت منوائی ہے.

8مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایونٹ کا فائنل میلبورن کے تاریخی مقام پر کھیلا جائے گا ،

دلچسپ اتفاق یہ بھی ہے کہ مردوں کا ورلڈ ٹی 20 بھی اسی ملک میں 6 ماہ بعد شیڈول ہے

گویا آسٹریلیا میں 2020 عملی طور پر 20 ، 20 کی صورت اختیار کر گیا ہے.

خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ میں شریک 10 ٹیموں کو 2 گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے.

گروپ اے:آسٹریلیا، بهارت،نیوزی لینڈ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے

گروپ بی:انگلینڈ،جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، پاکستان اور تھائی لینڈ پر دست وگریبان ہوگا.

بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کوالیفائر ایونٹ سے پہنچے جبکہ تهائی ٹیم تاریخ میں پہلی بار یہ ایونٹ کھیلے گی.

رائونڈ میچز کے بعد سیمی فائنلز اور فائنل کا مرحلہ ہوگا مجموعی طور پر 23 میچز کھیلے جائیں گے.

یہ ایونٹ اس اعتبار سے بھی تاریخی بننے جارہا ہے کہ نو بال کا اختیار پہلی مرتبہ تھرڈ امپائر کو کسی بھی آئی سی سی گلوبل ایونٹ میں حاصل ہوگا

ویمنز ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کی سابقہ کارکردگی متوقع پرفارمنس کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے.

آسٹریلیا :ریکارڈ 5ویں بار چیمپئن بننے کیلئے فیورٹ ہے.

دفاعی چیمپئن ٹیم 2010،2012،2014 اور 2018 کی ورلڈ چیمپئن سائیڈ میک لیننگ کی کمان میں کامیابی کیلئے پرعزم ہے.

ہیتهر نائٹ کی یہ آرزو ہوگی کہ وہ ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرکے 6ماە بعد کھیلے جانے والے مینز ورلڈ ٹی 20 کیلئے اپنے کپتان ایرون فنچ کیلئے ایک چیلنج سیٹ کرسکیں.

انگلینڈ :2009 کے ابتدائی ایونٹ کی چیمپئن ٹیم پھر کبھی نہ جیت سکی .ہیتهر نائٹ کی قیادت میں کھیلنے والی انگلش سائیڈ صرف گزشتہ ایونٹ 2018 ہی کی رنر اپ نہیں بلکہ گزشتہ 5 فائنلز میں سے 3 کی ناکام ٹیم بھی ہے.

ہیتهر نائٹ کی کوشش ہوگی کہ وہ اوئن مورگن کی طرح ٹرافی لہرائیں جنہوں نے چند ماہ قبل مردوں کے 50 اوور ز کے ورلڈ کپ میں چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا.

ویسٹ انڈیز:2016 کی چیمپئن ٹیم سٹیفن ٹیلر کی کمانڈ میں باصلاحیت پلیئر ز پر مشتمل ہے.

گزشتہ ایونٹ میں اس نے سیمی فائنل میں اپنی مہم کا اختتام کیا تھا.

بنگلہ دیش:گزشتہ 3 ایونٹ میں ابتدائ رائونڈ میں اپنے سفر کا اختتام کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم سلما خاتون کی کپتانی میں اسلئے بھی پرجوش ہے کہ اسکے انڈر 19 کرکٹرز نے حال ہی میں بچوں کا میگا ایونٹ ورلڈ کپ جیت کر تہلکہ مچادیا ہے.

ملک میں کرکٹ کا جنون عروج پر ہے. خواتین بھی انڈر 19 بچوں کی طرح اپنا آپ منوانا چاہتی ہیں.

بهارت:یہ ٹیم بھی بڑا خطرہ ہے. مجموعی طور پر 3 سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیم 2018 میں بھی فائنل تک نہ پہنچ سکی.

ہرن پریت کور کی کپتانی میں ٹیم کوہلی الیون کی طرح جیتنے کا جذبہ رکهتی ہے.

نیوزی لینڈ:2018 میں اسکا سفر ابتدائی راونڈ میں تمام ہوا تھا لیکن یہ ٹیم ابتدائی 2 ایونٹس 2009 اور 2010 میں رنر اپ رہی تھی. کیویز خاتون چند ماہ قبل اپنے ەم وطن کین ولیمسن کا غم پوری قوم کی طرح نہیں بھلا سکی ہونگی

جب لارڈ ز کے تاریخی میدان میں اسکی مینز ٹیم ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں انگلینڈ سے سپر اوور کے متنازعە قانون کی وجہ سے ہا ر گئ تھی.

سوفیا ڈیوائس اس مایوسی کو ختم کرنے کیلئے اپنی ٹیم کو روشن امیدوں کے ساتھ لیڈ کریں گی.

جنوبی افریقا :2014 کی سیمی فائنلسسٹ ٹیم کبھی بھی نا پہلے اور نا بعد میں سیمی فائنل تک کھیل سکی.پروٹیز مردوں کی طرح خواتین پلیئرز بھی چوکر بنتی جارہی ہیں.

فتح کے قریب آکر سمت تبدیل کرلیتی ہیں. ڈینی نکرک کی قیادت میں پروٹیز ویمنز اس مرتبە تو کچھ رقم کرنا ہی چاہتی ہیں.

سری لنکا:کماری اتا پتو کی کمان میں آئ لینڈرز چمتکار کرجائیں تو بڑی بات ہوگی کیونکہ ایونٹ کی تاریخ کے تمام 6 ٹورنامنٹس میں سفر رائونڈ ون تک ہی رہا.

پاکستان: بسمعہ معروف کی کپتانی میں گرین شرٹس کی پہلی منزل سیمی فائنل تک رسائ ہوگی .پاکستان بھی کبھی فائنل 4میں داخل نہ ہوسکا.

اس مرتبە بھی ثنا میر جیسی پلیئرز کی عدم موجودگی میں کسی انہونی کا امکان کم ہے.

بسمعہ معروف کے پاس اچھا موقع ہوگا کہ وہ کم سے کم سیمی فائنل کی منزل پاکر بابراعظم الیون کیلئے 6 ماہ بعد کے ایونٹ میں ایک بڑی مثال قائم کردیں

تهائ لینڈ : ویمنز ٹی ورلڈ کپ میں اسکا ڈیبیو ہوگا. کوئی ایک فتح بھی اسکی مرادیں پوری کردےگی.


شیئر کریں: