ووٹ خریدنے کیلئے امیدوار اپنا گردہ بیچنے کو تیار

ووٹ خریدنے کیلئے امیدوار اپنا گردہ بیچنے کو تیار

دنیا کے کئی ممالک میں 2024 عام انتخابات کا سال ہے. پاکستان میں الیکشن ہوچکے اب 14 فروری بدھ کو آبادی کے لحاظ سے
دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں انتخاب ہونے جارہے ہیں. دنیا کے مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا 23 فیصد
حصہ انڈونیشیا کو قرار دیا جاتا ہے. ویسے پاکستان کی آبادی بھی انڈونیشیا کے قریب قریب یا اس سے آگے نکل چکی ہے. چلیں
اس پر بحث پھر کبھی کی جائے گی.

انتخابی مہم کیسے چلائی جائے؟

بہرحال انڈونیشیا میں انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے. انڈونیشیا میں ووٹوں‌کا ایک امیدوار ایسا بھی ہے جسے انتخابی مہم چلانے
کے لیے اپنا ایک گردہ بیچنا پڑ رہا ہے. مالی حالت ایسی نہیں‌کہ وہ انتخابی مہم چلا سکے اسی لیے مجبورا یہ فعل انجام دے رہا ہے.
گردہ بیچنے والا شخص 47 سالہ ایرفن دیوی سوڈانٹو ہے جو چند ماہ سے اپنا گردہ بیچنے کی کوشش کر رہا ہے.

14 فروری کو انڈونیشیا کی علاقائی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے والے ہزاروں امیدواروں میں سے ایک ایرفن دیوی
ہے جسے اپنی سیاسی مہم کے لیے 20 ہزار ڈالرز فنڈ جمع ہونے کی امید تھی۔ مشرقی جاوا میں بنیوانگی میں نیشنل مینڈیٹ پارٹی کے
امیدوار ایرفین نے الجزیرہ کو اپنی کہانی سنائی.

ووٹ‌کیسے خریدا جائے؟

ایرفین نے انتخابات پر خرچ کا تخمینہ 50 ہزار ڈالر لگایا ہے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ووٹرز کی خواہشات پوری کرنی پڑتی ہیں
جس کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں اسے آپ ووٹ خریدنا بھی کہہ سکتے ہیں۔
انڈونیشیا میں ووٹ خریدنا غیر قانونی ہے۔ اس کی سزا 3 ہزار ڈالر جرمانہ اور تین سال قید ہے لیکن اس کے باوجود یہ انتخابی مہم کا
حصہ بن چکا ہے۔ ایک ووٹ‌کم از کم 3 سے 7 ڈالر میں تیار ہو جاتا ہے.
سروے کے مطابق تیل اور گیس سے مالا مال خطوں میں ایک ووٹ کی قیمت 150 ڈالر بھی ہو سکتی ہے.