وما علینا الا البلاغ

شیئر کریں:

تحریر : گل زہرا رضوی
موت تو برحق ہے اور مرنے والا اپنے دفاع میں کچھ کہہ نہیں سکتا ، لیکن اسکی لیگیسی ہمیشہ باقی رہتی ہے جو وہ چھوڑ کر جاتا ہے۔
کل جامعہ بنوریہ کراچی والے مفتی نعیم بھی اصلی و ابدی سفر پر روانہ ہوگئے۔
خدا ہمیں بھی اور انہیں بھی اپنے اپنے عقیدوں کے مطابق محشور۔

جانے والے کے بارے میں کیا کہوں کہ وہ جو کر / کہہ گئے، خود جانتے ہیں۔
کچھ کہنا چاہ بھی نہیں رہی تھی کہ جو چلا گیا سو چلا گیا،
ہاں ان احباب سے تعزیت بنتی ہے جو انہیں معتدل و بالخصوص اتحاد امت کے داعی کہہ کر یاد کر رے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ایصالِ ثواب کی مجلس بھی کر دیں۔
آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں ، وجہ آپکو معلوم ۔ لیکن یہ سب کہنے سے پہلے مرحوم کی کتاب “ادیانِ باطلہ و صراطِ مستقیم” ضرور پڑھ لیجئے گا ۔

نفرت آمیز مواد پر مبنی یہ کتاب آپکو کراچی میں آسانی سے مل جائے گی، سرچ کریں تو سوفٹ کاپی بھی دستیاب ہے۔
اس کتاب میں مفتی نعیم نے پاکستان میں بسنے والے ہر فرقے بشمول اثنا عشری شیعہ (جنہیں وہ رافضی لکھتے ہیں)، اسماعیلی شیعہ ، بریلوی سُنی کو کافر، زندیق، مرتد، مشرک لکھا ہوا ہے۔
اثنا عشریہ شیعوں کے اعتقادات کے حوالے سے سے جھوٹ پر مبنی مبالغات شامل کئے گئے ہیں۔
چھے سو صفحات کی اس کتاب میں اپنے فرقے کے سوا باقی ہر فرقے کو گمراہ، یا کافر، یا مشرک قرار دیا ہے۔
حتی کہ اپنے ہی فرقے سے قریب ترین الہدی انٹرنیشنل کو بھی ایک الگ فرقہ بنا کر اسے بھی گمراہ کہہ دیا۔

گھوڑا بھی آپکا ہے اور میدان بھی۔ چاہیں تو صرف اس کتاب کا مطالعہ کر کے مرحوم کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
یا چاہیں تو انہیں اتحادِ امت کا داعی و معتدل کہہ کر ایصالِ ثواب کیلئے قرآن پڑھوا لیں لیکن مدعی سست اور گواہ چست نہ ہو جائے
کیونکہ وہ ایصالِ ثواب کو بھی شرک سمجھتے تھے ۔


شیئر کریں: