وزیر اعلی پنجاب “او ایس ڈی” بنائے جارہے ہیں؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

بدعنوانی کی سنگین شکایات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو غیر فعال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
صوبے کے معاملات بیوروکریسی کے ذریعے چلانے کا تجربہ مزید قوت کے ساتھ دہرایا جائے گا۔

دوسری طرف مقتدر حلقوں نے کپتان اور اس کے طرز حکمرانی کو ناقابل اصلاح مانتے ہوئے
پنجاب میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے بلا واسطہ یا بالواسطہ کرپشن
کی سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں تازہ واردات “اشتمال اراضی” اسکینڈل ہے۔

وزیراعظم کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے
خاندان کے افراد اور قریبی لوگوں کو نوازنے اور اپنے “فرنٹ مینوں” کے ذریعے سرکاری اثاثوں
کی بندر بانٹ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

تبدیلی کی ہوائیں چل پڑیں؟ اسلام آباد میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کو چیف سیکریٹری پنجاب کی طرف سے موصولہ ایک حالیہ خفیہ
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس سلسلے میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ان کے آبائی علاقے کے
ملحقہ اضلاع میں اشتمال اراضی پر اندھا دھند قبضے اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔

جس پر وزیراعظم نے بیورو کریسی کے ذریعے خفیہ طور پر ان سنگین الزامات کی چھان
بین کروائی تو ان کی تصدیق ہو گئی۔

جس پر وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہفتہ کی رات ہنگامی طور پر اسلام آباد طلب کرلیا تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کی کرسی
پر غیر فعال کرنے کی غرض سے “او ایس ڈی” بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب کو ایک بار پھر اسی طرح بیوروکریسی کے ذریعے چلانے کا تجربہ مزید قوت کے ساتھ دہرایا جائے گا
جس طرح سابق چیف سیکریٹری میجر (ر) اعظم سلیمان کے ذریعے کیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ صوبائی چیف سیکرٹری 2 ایڈیشنل سیکریٹریوں کے ساتھ پنجاب کے معاملات چلائیں گے۔


شیئر کریں: