وزیر اعظم پر گلگت بلتستان الیکشن میں مداخلت کا الزام، لیگی قیادت کا دھرنا

Gilgit Protest
شیئر کریں:

سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نے مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کے ساتھ
الیکشن کمیشن آفس کے باہر دھرنا دیا۔

مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کو بااخیتار کرو اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے۔
حفیظ الرحمان نے کہا وفاقی وزیر اور وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن میں مداخلت بند کرائی جائے۔
وفاقی وزیر اعلانات کر کے الیکشن کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں۔
یہ لوگ بند کمروں میں جو کچھ کررہے ہیں اس کا نتیجہ سڑکوں پر نکل سکتا ہے۔
مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا تو اگلا دھرنا گورنر ہاوس کے باہر دیا جائے گا۔

Gilgit Protest
سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نے مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کے ساتھ
الیکشن کمیشن آفس کے باہر دھرنا دیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم سے پہلے ہی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا کہ کسی بھی سیاسی
جماعت کا قائد اور حکومت کے زمہ داران گلگت بلتستان کا رخ نہ کریں۔
گلگت بلتستان کے یوم آزادی پر یکم نومبر کو وزیر اعظم عمران خان نے گلگت کا دورہ کیا تھا
وزیر اعظم نے اس دورہ میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ ڈکلیئر کیا۔
اس اعلان کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے پولیٹیکل اسٹنٹ قرار دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعظم بغیر قانونی سازی کے اس کا اعلان نہیں کر سکتے ۔
وزیر اعظم سے پہلے وفاقی وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور گلگت پہنچے۔

انہوں نے بھی گلگت بلتستان کے عوام کے لیے مراعات کا اعلان کیا اور ووٹوں کے برابر نوٹ دینے
کی پیش کش بھی کی تھی۔

چیف الیکشن کمیشن نے خبر والے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف
ورزی کرنے والوں کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔


شیئر کریں: