وزیر اعظم نے بڑا فیصلہ کر لیا

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان
وزیراعظم عمران خان کے ویٹو نے حکومت اپوزیشن مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کردیا۔
سوموار کی رات جب پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے پاس
جا کر اپوزیشن کا مسودہ پیش کیا تو اس میں درج اپوزیشن کے مطالبات پر مبنی 35 نکات
وزیراعظم نے ایک ایک کر کے پڑھنے شروع کئے۔

عثمان بزدار کو علیم خان قبول نہیں

جوں جوں وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کے نکات پڑھتے گئے ان کے چہرے پر غصے کے تاثرات بڑھتے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اتنے سیخ پا ہوئے کہ انہوں نے تمام نکات پڑھے بغیر ہی شدید
غصے میں مسودہ ایک طرف پھینک دیا اور کہا “یہ تو سیدھی سیدھی بلیک میلنگ ہے یہ تو
‘نون لیگ’ اور پیپلز پارٹی والے ہم سے این آر او مانگ رہے ہیں لیکن میں کمپرومائز نہیں کروں گا”۔

وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی سے کہا “جاؤ اسمبلی میں جاکر انہیں ایکسپوژ کردو ،
ہمیں اب عوام کے پاس جانا چاہئے اور ان کا چہرہ ننگا کر دینا چاہئے۔
مبصرین کے سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس مرحلے پر اسمبلیاں توڑ کر ملک
کو نئے یعنی مڈٹرم الیکشن کی طرف لے جاسکتے ہیں۔

‘بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ’ نے آخری لمحوں میں بزدار کو کن شرائط پر بچایا؟

اپوزیشن کے 35 ترمیمی نکات کے پیچھے چھپے مطالبات سے عیاں ہوگیا کہ دونوں بڑی اپوزیشن
جماعتوں ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا اصل ہدف صرف اور صرف اپنی اپنی اعلیٰ قیادت
کے خلاف احتساب کیسز ختم کروانا اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی سے
پہلے والی پوزیشن بحال کروانا ہے۔
کیونکہ 35 نکات میں ایک نکتہ اس ترمیم کے مطالبے پر مبنی ہے جس کی رو سے نیب کا سزایافتہ شہری بھی عوامی عہدے یا دوسرے لفظوں میں اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی کے قائد آصف زرداری اور “نون لیگ” کے صدر شہبازشریف نے جلد سے جلد ملک سے نکل جانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر مملکت نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے سیاسی آپشن کے ساتھ ساتھ “علاج کی غرض سے” بیرون ملک جانے کی ڈیل کے لئے مقتدر قوتوں کے ساتھ رابطوں کا متوازی آپشن استعمال کرنا ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔
باخبر حلقوں میں باور کیا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے اپنے دیرینہ اور انتہائی قابل اعتماد ‘پیغام رساں’ سینیٹر رحمان ملک کو اسی سلسلہ میں پیر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس بھیجا۔
جس کے بارے میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی علم نہیں کیونکہ باور کیا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے اس بابت کسی اور کو اعتماد میں نہیں لیا۔
شہبازشریف نے اپنے بڑے بھائی اور “نون لیگ” کے قائد نواز شریف کو اعتماد میں لیتے ہوئے منگل کو بتایا کہ ان کی اپنے اور مریم نواز کو ایک بار لندن جانے کی اجازت میں مدد کے لئے مقتدر حلقوں سے بات چیت چل رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق منگل کو بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات سے قبل شہبازشریف نے لندن میں پارٹی قائد نواز شریف سے فون پر بات کی جس میں انہیں نواز شریف نے جب اے پی سی کی تاریخ دے دینے کا کہا تو شہباز شریف نے عذر پیش کیا کہ وہ اے پی سی کے حوالے سے ابھی اتنا آگے نہیں جا سکتے۔
اس لئے کہ ‘میری “اُن” کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے کہ مجھے لندن جانے کی اجازت لے کر دیں اور ایک بار مریم کو بھی لندن وزٹ کرنے دیا جائے۔


شیئر کریں: