وزیر اعظم سے پشاور میں 20 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے ملنے سے کیوں انکار کیا؟

شیئر کریں:

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے خیبرپختونخوا کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اجلاس
کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور پہنچے
جہاں انہوں نے کئی اجلاسوں کی صدارت کی۔

نوشہرہ کے بعد پختونخواہ سینیٹ انتخابات میں بھی اپ سٹ کی تیاری

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ نوشہرہ انتخابات میں ہمارے ساتھ دھاندلی
کی گئی ہے جتنے بیلٹ پیپرز جاری ہوئے ووٹ اس سے زیادہ نکلے ہیں۔ بقول پرویز خٹک ان کے پاس دھاندلی
کے ٹھوس ثبوت ہیں نتیجے کے خلاف عدالت جائیں گے ریٹرنگ افسران نے دھاندلی کروائی۔

رکن اسمبلی شوکت علی کہتے ہیں سینٹ انتخابات کیلئے مؤثر حکمت عملی بنائی جائے ایسا نہ ہو کہ ووٹ
نہ بیچنے والوں پر بھی غلط الزام عائد کردیا جائے۔ ارکان پیسے بھی لے لیتے ہیں اور پھر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی امیدواروں
کو ووٹ دیں جو رکن ووٹ بیچنا چاہتا ہے تو پارٹی سے نکل جائے۔ میرا کوئی بھی قومی و صوبائی اسمبلی کا
رُکن نہیں بکے گا جہدوجہد کر کے اقتدار میں آئے ہیں۔ اپوزیشن کو خوف ہے کہ پی ٹی آئی کہیں سینیٹ
میں اکثریت حاصل نہ کرلے۔

وزیراعظم نے کہا گزشتہ سینیٹ انتخابات میں بھی پارٹی کے چند ارکان نے پیسے لیے اور جو ارکان ہارس ٹریڈنگ
میں ملوث تھے ان کو پارٹی سے نکالا کیونکہ ووٹ بیچنے والے رکن کا پتہ چل جاتا ہے۔

ملکی حالات پر وزیراعظم نے کہا اقتدار میں آئے تو 20 ارب ڈالر کرنٹ خسارہ اورقرض میں ڈوبا ہوا ملک ملا
لیکن اب معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی پی ٹی آئی سے ناراض، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 78 فیصد کمی

ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات میں 14 ارکان قومی اسمبلی اور 6 ارکان صوبائی اسمبلی غیرحاضر رہے۔
ذرائع نے بتایا کہ غیرحاضرارکان مختلف وجوہات اور مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔

اجلاس میں‌ اراکین اسمبلی کے چہروں‌ کے رنگ اڑے ہوئے تھے وزیر اعظم کے تاثرات اور باڈی لینگویج بھی معمول
کے مطابق نہیں‌تھی۔ ذرائع یہی کہتے ہیں تحریک انصاف کے لیے آنے والے دن اور بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔


شیئر کریں: