وزیر آباد کے حلقہ پی پی 51 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا مقابلہ

شیئر کریں:

وزیرآباد سے سید ضمیر کاظمی

ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد کے حلقہ پی پی 51 میں 19 فروری کو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔
جس میں دو لاکھ 53 ہزار 949 افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ شہر کی مین شاہراہیں اور چوک
امیدواروں کے بھاری بھرکم سائن بورڈز اور بینرز سے سجی ہوئی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی وزیرآباد شہر کی سِیٹ پر مسلسل 3 بار ایم پی اے رہنے والے شوکت منظور
چیمہ کی کورونا وائرس کے باعث وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس نشست
پر ن لیگ کی طرف سے شوکت مظور چیمہ کی اہلیہ طلعت منظور چیمہ، حکمران جماعت کے چوہدری محمد
یوسف، جماعت اسلامی نے ناصر محمود کلیر اور تحریک لبیک سے ناصر محمود جوندہ امیدوار ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق ایم پی اے اعجاز احمد سماں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن پی ڈی ایم کا حصہ ہونے
کے باعث انہوں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے۔

پی پی پی ن لیگ کی امیدوار طلعت منظور چیمہ کو سپورٹ کر رہی ہے۔ 2018 کے جنرل الیکشن میں مرحوم
شوکت منظور چیمہ نے 32 ہزار کی لیڈ سے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار شبیر اکرم چیمہ کو شکست سے
دوچار کیا تھا۔
اس نشست پر جماعت اسلامی کے مشتاق بٹ نے 23 ہزار ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ حلقہ
میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 38 ہزار 661 اور خواتین ووترز 1 لاکھ 15 ہزار 288 ہیں۔ الیکشن کے لیے
51 مرد، 50 خواتین، 61 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز اور 423 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔

اس موقع پر 162 پریزائیڈنگ آفیسرز، 423 اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 423 پولنگ آفیسرز ڈیوٹی
سرانجام دیں گے۔ الیکشن کے ایک روز پہلے تک مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، سائرہ افضل تارڈ
اور عطاءاللہ تارڈ سمیت مرکزی اور صوبائی قیادت نے حلقہ میں ڈیرے ڈالے رکھے۔

مریم نواز بھی 15 فروری کو وزیرآباد میں جلسہ کیا تحریک انصاف کے سنٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری
اور دیگر رہنما بھی پارٹی کنونشنز میں شرکت کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی رابطہ عوام مہم چوہدری احمد
چٹھہ اور حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں زور شور سے جاری رہی ۔

جماعت اسلامی اور تحرہک لبیک بھی منظم طریقے سے اپنی مہم خوب چلائی۔ سوہدرہ اور وزیرآباد جو ن لیگ
کے قلعے ہیں ان شہروں میں پی ٹی آئی اپنے امیدوار کی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے جبکہ ن لیگ اپنے ووٹ
بینک کو قائم رکھنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ فتح کا تاج کس کے سر پر سجتا ہے۔


شیئر کریں: