وزیراعظم بے نظیر بُھٹو کا کونسا کانفیڈنشل پیغام منو بھائی پر بجلی بن کر گرا

شیئر کریں:

تحریر علیم عثمان

مُنُو بھائی کون تھے ؍اس کا جواب اَور اُن کا مُکمل تعارف محض ؍اس ایک واقعہ سے ہو جائے گا ؍اس واقعہ
کے دیگر تمام کردار تصدیق کے لئے حیات ہیں۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک پُرانے کارکن غُلام عباس (جو اب ‘ تحریک؍ ؍انصاف ‘
کو پیارے ہو چُکے ہیں) کو بےنظیر بھُٹو نے اپنے دُوسرے دور؍ حکومت میں انٹی کرپشن کا صوبائی وزیر لگا دیا تھا۔
وہ رات کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنے گھر پر پارٹی کارکنوں اور قریبی دوستوں کی محفل جمایا کرتے تھے جن میں مُنُو بھائی بھی اُن کی خصُوصی درخواست پر کبھی کبھی شریک ہو جایا کرتے تھے۔
اس لئے کہ ‘ڈاؤن ٹُو ارتھ’ اور جینؤن شخصیت کے مالک مُنُو بھائی سیاسی ، بالخصوص نظریاتی کارکنوں سے ؍عشق کرتے تھے۔
صاف ستھری شخصیت اور شفاف کردار والے وزیر آباد کے مُنیر قریشی المعرُوف منو بھائی ویسے بھی ہمیشہ اپنے طبقے میں ہی کمفرٹیبل پائے گئے۔

“لالی وڈ” کی کس اداکارہ کو تین فلمی لیجنڈز سے خراج تحسین ملا؟

انہوں نے پُوری زندگی اپنے طبقے کے اپنے جیسے لوگوں اور عوامی مجمعوں / محفلوں (get togethers) میں گُزاری .

غُلام عباس ڈرائیور کے ہمراہ ایک آدھ قریبی دوست کے ساتھ گاڑی َ؍ریواز گارڈن بھیج دیتے جو بڑے احترام کے ساتھ مُنُو بھائی کو اَن کے گھر سے pick up کرلیتے اور ؍پھر رات گئے محفل برخاست ہونے پر واپس گھر چھوڑ کے آتے۔
؍اس سلسلے میں اکثر مرغُوب صدیقی کا منجھلا صاحبزادہ درویش منش حارث مرغوب ، مُنُو بھائی کو لینے منسٹر صاحب کے ڈرائیور کے ساتھ جاتا۔

ایک رات کیا ہُوا کہ حارث مرغُوب ، غُلام عباس کی گاڑی میں ڈرائیور کے ھمراہ مُنُو بھائی کو حسب؍ معمُول غُلام عباس کی خصُوصی ریکؤسٹ پر ؍ریواز گارڈن میں اُن کے گھر سے لے کر ماڈل ٹاؤن میں وزیر صاحب کی رہائش گاہ پر پُہنچا ہی تھا کہ “سادہ لوح” وزیر نے آتے ہی مُنُو بھائی کو وزیراعظم بے نظیر بُھٹو کا ایک پیغام دے دیا۔

مُنُو بھائی جواب میں کُچھ نہیں بولے ما؍سوائے ؍اس کے “یار غَلام عباس ، ڈرائیور نُوں کہہ مینُوں گھر چھڈ آوے۔
صاف لگ رہا تھا کہ مُنُو بھائی کی طبیعت ؍بگڑ رہی ہے جو منسٹر صاحب کی زبانی وزیراعظم کا یہ کانفیڈینشل سندیسہ سُن کر بےحد upset ہوگئے ہیں۔
کوئی بات ان کے دل پر اس قدر گراں گزری ہے کہ وہ شدید بد مزہ اور بے چین ہوگئے ہیں لیکن اپنے جذباتی ردعمل کا اظہار روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور پہلی بار غُلام عباس کے گھر آتے ہی خلاف؍ معمُول وہاں سے اُٹھ جانے کے لئے بے تاب ہیں۔
عینی شاہد کے مُطابق غُلام عباس نے مُنُو بھائی سے کہا تھا “مُنُو بھائی ، پرائم منسٹر کا مُجھے خصُوصی ارجنٹ حُکم ؍ملا ہے کہ مُنُو بھائی کو لاہور میں ایک اچھا سا رہائشی پلاٹ فوراً الاٹ کیا جائے۔

مُجھے ہمیشہ اس بات پر غرُور رہا کہ مُجھ سے مُنُو بھائی بُہت پیار اور اپنائیت رکھتے تھے۔
حالانکہ روز و شب ان کے میرے ھم زلف ، اداکار عابد علی کے ساتھ گزرتے تھے۔
ایک بار جب میں”جنگ” چھوڑ چَکا تھا اور بے روزگار تھا علامہ اقبال ٹاؤن کے زینت بلاک میں کسی کوٹھی کے گیراج پر بنے ایک کمرے کے کرائے کے گھر پر سو رہا تھا کہ کال بیل کی آواز سُن کر میری بیوی نیچے گئی اور واپس آکر مُجھے اُٹھایا کہ منو بھائی اور جواد نظیر ملنے آئے ہیں۔
نیچے گرمی میں کھڑے ہیں جواد نظیر نے کہا ہم ذرا فلم اسٹوڈیو جا رہے تھے ، مَیں نے منو بھائی کو جب بتایا کہ علیم بھی ادھر پاس ہی رہتا ھے تو منو بھائی نے اصرار کیا “چَل چَل ، پہلاں اوہدے وَل چَل” (چلو ، پہلے سیدھا اس کی طرف چلو)

ایک شام میں نے ریواز گارڈن میں منو بھائی کے گھر جا کر کال بیل بجائی تو دروازے پر آتے ہی مجھے ساتھ لے جا کر ڈرائنگ روم میں اسی صوفے پر بیٹھ گئے جہاں کاغذوں کا ایک پلندہ پڑا تھا۔
منو بھائی اس وقت ایک ایسا کام کر رہے تھے جو مکمل خلوت اور سکون کا متقاضی ہے۔
ایسے وقت عام طور پر لوگ اپنے گھر والوں کو بھی اپنی پرائیویسی میں مخل نہ ہونے بابت سخت ہدایات جاری کرتے ہیں لیکن اخلاقی بلندی کی حدوں کو چھونے والی شخصیت کے مالک منو بھائی بے مثال انسان تھے۔
مجھے صوفے پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہی پوچھتے ہیں ” سب سے صابر پرندہ کون سا ھے؟” میں نے کہا “کبوتر ھے شائد” منو بھائی کہنے لگے اکثر لوگوں کا یہی خیال ہوگا لیکن سب سے صابر پرندہ ؍گدھ ہے جو اس وقت تک اپنے شکار پر جھپٹنے سے خود کو روکے رکھتا ہے جب تک اسے وہ مردہ حالت میں نہ ملے” منو بھائی نے کہا” میں اس وقت پی ٹی وی کے لئے ایک نئے ڈرامے کا اسکرپٹ لکھ دیا تھا جس کے ایک scene میں ایک کردار دوسرے سے یہی سوال کرتا ھے
اسی لمحے تم آگئے ”


شیئر کریں: