نیپال نے عالمی اداروں کے لیے اپنی حدود کا نیا نقشہ تیار کرلیا

شیئر کریں:

چین کے بعد پڑوسی ملک نیپال بھی بھارت کے سامنے ڈٹ گیا۔
نیپالی حکومت نے نیا نقشہ اقوام متحدہ سمیت عالمی رہنماؤں کو بھجوانے کا اعلان کر دیا۔
پارلیمنٹ سے منظور شدہ نیا نقشہ اقوام متحدہ ، گوگل اور بین الاقوامی برادری کو بھیجا جائے گا۔
بھارت نے 8 مئی 2020 کو شمالی ریاست اترا کھنڈ جانے والی 80 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا تھا۔
نیپال نے بھی جوابی وار کیا اور نیا نقشہ جاری کیا جس کا بھارت دعویدار تھا۔

نیپال حکومت نے 20 مئی کو لمپیادھورا، لیپولیخ اور کالاپانی کو شامل کرتے ہوئے
نظرثانی شدہ سیاسی اور انتظامی نقشہ جاری کیا۔
پارلیمنٹ سے بھی منظوری لی گئی ہے یہ 300 مربع کلومیٹرپر مبنی ہے۔
نیپال کے وزیر پدما آرئل کا کہنا ہے نیا نقشہ بھارت کو بھی بھجوایا جائے گا۔
پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے نقشے کی چار ہزارکاپیاں انگریزی زبان میں چھاپ
کر بین الاقوامی برادری کو بھجوائی جائیں گی۔
یہ عمل اسی ماہ کے وسط میں مکمل کیا جائے گا اور محکمہ پیمائش نے نقشہ کی
پچیس ہزار کاپیاں چھپوا کر قوم میں تقسیم کی ہیں۔
سرکاری دفاتر میں مفت میں نئے نقشے کی کاپیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔
نئے نقشے کے خواہش مند افراد پچاس روپے میں کاپی حاصل کر سکیں گے۔


شیئر کریں: