نیا پاکستان اور عوام کی چیخیں

شیئر کریں:

تحریر:سید حامد علی زیدی

ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
یہ کلاسیکی فادسی کہاوت ہے کہ جو آیا اس نے اپنی نئی عمارت بنائی۔
ہم کیسے سادہ لوح ہیں کہ ہر ایک سے آس لگا بیٹھتے ہیں کہ بس ہمارے دن
پھرنے والے ہیں ۔۔ سچائی عروج پائے گی اور جھوٹا خوار ہوگا ۔۔
قابلیت کا بول بالا ہوگا اور نالائقوں کو فارغ کردیا جائے گا ۔۔
معصوم انصاف پائیں گے اور ظالم ا اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔۔
لیکن ہر بار نالائقوں کو ہم پہ مسلط کر دیا جاتا ہے ۔۔
جس کی گز بھر کی زبان ہوتی ہے اسے وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا جاتا ہے ۔۔
جسے زور سے کھانسنے پہ چکر آجاتے ہوں اسے وزیر دفاع بنا دیا جاتا ہے ۔۔
جنہیں ہتھوڑے اور پیچ کس کا فرق معلوم نہیں ہوتا انہیں سائینس اور ٹیکنالوجی
کا وزیر بنا دیا جاتا ہے ۔۔
ایک عام آدمی بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہتا ہے اسمبلیوں کی رونقیں ممبران کی مراعات
وزیروں مشیروں کے اللے تللے لسی ، زیتون کا تیل اور شہد محکوموں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ
چھینے ہووئے ٹیکسوں سے پورے ہوتے ہیں ۔۔

ہر آدمی عزت دولت اور شہرت کا طلبگار ہے لیکن اس کے حصول کے اپنے اپنے طریقہ کار ہیں ۔۔

ان کا بس چلے تو اپنے مرحومین کے مجسمے ہر چوک پر لگوا دیں۔
گلیوں کے نام اپنے بچوں کے نام پر رکھ دیں ۔ہر پہلے بنی ہوئی چیز پہ اپنے نام کی
تختی لگا دیں۔ ہر افتتاح ہووئے منصوبے کا بار دیگر افتتاح کریں۔

اس ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر ہے، طاقتور کو کبھی سزا نہیں ہوئی
اور غریب کبھی بچ کر نہیں نکلا ۔۔

ڈاکٹر سے جھوٹی رپورٹ بنوا لیں آدمی پولیس تشدد سے مرا ہوگا ۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کےمطابق اس کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا ہوگا
نظام عدل ایسا کہ آپ کا گھر تک بکوا دے سب کو پتہ ہے کہ عدالتوں میں
ابتدائی تفتیشی رپورٹ سے لیکر گواھوں اور وکیلوں کی ہیرا پھیریوں تک اور
جج کے انصاف کے ہتھوڑے تک دونمبری ہے ۔۔

ہر حکومت نے عدالتی اصلاحات کا وعدہ کیا اور کسی نے بھی پورا نہیں کیا۔
پورا کیا ادھورا بھی نہیں کیا ۔۔

بڑے کیس روزانہ کی بنیاد پر سنے جاتے ہیں اور زیریں عدالتوں میں دادا کے
مقدمے پوتے بھگتتے ہیں ۔۔

پوری دنیا میں سمجھا جاتا ہے کہ مذھبی لوگ خدا ترس اور ایماندار ہوتے ہیں
یہاں یہ بھرم بھی ختم ہوگیا اتنے بھیڑیئے بھیڑوں کی کھال پہن کر ان میں شامل
ہو چکے ہیں کہ اصلی اور نقلی کی پہچان ختم ہو گئی ہے ۔۔

معاشرہ سن ہوچکا ہے ۔۔ بچیوں کو بے حرمت کرکے قتل کر دیا جاتا ہے۔
بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس پر عدل اور قاضی ایک دوسرے کا مونہہ دیکھ رہے
ہیں۔

بادشاہوں کو جھوٹی تاریخیں لکھوانے کا طعنہ دینے والے قلم قبیلہ لوگوں کی اکثریت
خود قلم کان پر لگا کر گلی گلی آوازیں لگاتے پھر رہے ہیں کہ تاریخ لکھوا لو۔
خوشامد کروا لوجھوٹ کو سچ ٹابت کروا لو چور کو نجات دھندہ بنوا لو بے وقوف کو
عقلمند ٹابت کروا لو ۔۔

قوم سانحات کی عادی ہو چکی ہے ۔۔
سانحہ راولپنڈی،سانحہ مشرقی پاکستان،سانحہ کارساز
سانحہ بلدیہ ٹاون،سانحہ ماڈل ٹاون،سانحہ پشاور
سانحہ ساھیوال،سانحہ لاہور،سانحہ یہ،سانحہ وہ

تفتیشی کمیٹی قائم کی جاتی ہیں ، تفتیش کی جاتی ہے اور فائل داخل دفتر کردی جاتی ہے۔
کہ خون خاک نشنیاں تھا رزق خاک ہوا ۔۔

اسمبلیاں کلبوں کا روپ دھار چکی ہیں لوگ کروڑوں خرچ کرکے اربوں کمانے کے چکر میں
وہاں پہنچتے ہیں ۔مزدور کی تنخواہ دو ہزار روپے زیادہ کرتے ہوئے جنہیں موت آتی ہے وہ
اپنی تنخواہوں اور الاونسز میں لاکھوں روپے اضافہ کرنے پر متحد ہو جاتے ہیں ۔۔

عام آدمی ہر حکومت کو جاتے دیکھ کر یہی کہتا ہے ۔۔

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا


شیئر کریں: