نوجوان پب جی کی وجہ سے خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟

شیئر کریں:

خونی گیم پب جی ہے کیا؟
یہ گیم نوجوانوں میں کیوں مقبول ہے؟
نوجوان پب جی کی وجہ سے خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟
پاکستان میں پب جی پر کیوں پابندی عائد کی گئی ہے؟
کون سے قوتیں پب جی پر پابندی کے خلاف ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟
ان تمام سوالوں کے جواب خبر والے نے جاننے کی کوشش کی ہے۔
خونی گیم پب جی کے خلاف دنیا بھر میں آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔
پرتشدد تھیم پر مشتمل گیم کی وجہ سے نوجوان نسل ذہنی امراض کا شکار ہورہی ہے۔
متازع گیم میں ایک ایسا ماحول بنایا گیا ہے جس میں گیم کھیلنے والے نے لوگوں کو قتل کرنا ہوتا ہے۔

وقار زکا نے خونی گیم پب جی پر پابندی کا فیصلہ چیلنج کردیا

گیم کا اینی مینشن اس قدر مہارت سے بنایا گیا ہے کہ گیم کھلیلنے والے کو یہ گیم کے تجربات
حقیقی زندگی میں محسوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

پب جی میں آن لائن آپشن سے آپ دنیا کے دیگر گیمرز کے ساتھ ٹیم بنا سکتے ہیں۔
ٹیم بنا کر نوجوان گیم میں قتل عام کرتے ہیں جس سے ان کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
گیم کھیلنے والے نوجوان چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور حقیقی زندگی میں بھی ان کا رویہ پرتشدد ہوجاتا ہے۔
لاہور میں ایک ہفتے کے دوران پب جی گیم کی وجہ سے دو نوجوانوں کے خود کشی کرلی۔

والدین کا کہنا تھا کہ بچوں کو جب گیم کھیلنے سے روکا گیا تو وہ خاموش رہنا شروع ہوگئے تھے
اور بلآخر انہوں نے خود کشیاں کرلیں۔

پنجاب پولیس کی درخواست پر پی ٹی اے نے پب جی پر پاکستان میں عارضی پابندی کردی۔
پابندی عائد کرنےکے خلاف ملک بھر کے نوجوان سوشل میڈیا پر میدان میں آگئے۔
پاکستان میں کئی روز تک ٹویٹر پر پب جی ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

بلآخر پب جی کے حق میں بولنے والی قوتین کھل کرسامنے آگئیں۔
وقار زکا نے پاکستان میں پب جی پر پابندی کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

درخواست میں وقار زکا کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک اسپورٹس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے
اورپب جی گیم آن لائن پیسے کمانے کا سب سے بڑا زریعہ ہے۔

خونی گیم پر پابندی سے ریڈ بل، ڈیو اور دیگر کمپنیاں اسپانسرشپ ختم کردیں گی۔
اسپانسر شپ ہونے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہوگا۔
پب جی گیم پر پابندی کی وجہ سے پاکستان الیکٹرانک اسپورٹس میں بلیک لسٹ ہوسکتا ہے۔
عدالت سے گیم پر پابندی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
پب جی کی وجہ سے درجنوں افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پب جی نا صرف خودکشی کی شرح میں اضافہ بلکہ دہشت گردی کا سبب بھی بنا ہے۔
گزشتہ سال نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملوں میں ملوث دہشت گرد نے پب جی گیم کھیلنے کا اعتراف کیا تھا۔
دہشت گرد نے پب جی گیم اسٹائل میں حملہ کیا اور اسی طرز پر حملے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔
یہی وجہ ہے کہ ہر کونے سے خونی گیم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔


شیئر کریں: