نوازشریف کا پیپلزپارٹی کو دوبارہ گلے لگانے کا فیصلہ

تحریر محمد رضا سید

نواز شریف کا پیغام یہ ہے کہ وہ پی پی پی جیسی دوسری سیاسی جماعتوں پر اعتماد کرکے ایک کثیر الجماعتی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جائیں
گے جیسا کہ 2022 میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے پیپلزپارٹی کو گلے لگا لیا تھا لیکن فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا نوازشریف
اپنے منصوبے میں کامیاب ہوجائیں گے.

فوج کے فیصلے کہاں‌ہوتے ہیں؟

سو سے زائد نشتیں رکھنے والی تحریک انصاف نوازشریف خاندان کے اقتدار میں آنے میں بڑی رکاوٹ ہے. تحریک انصاف نے
فارم 45 کے تحت 170 نشتوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے مگر پاکستانی فوج کی مقتدرہ تحریک انصاف کو اُن کی حاصل کردہ نشتیں دے
گی؟ جو الیکشن کمیشن نے جعل سازی سے مسلم لیگ(ن) کے حوالے کردی ہیں.
یہ ملین ڈالر کا سوال ہے اور اس کا جواب تحریک انصاف اور پاکستانی فوج کے چند جنرلز کے درمیاں خلیج کو پاٹنے سے دیا جاسکتا ہے.
پاکستانی فوج کی پالیسیاں اور فیصلے صرف چند جنرلز کی خواہشات کی مرہنون منت نہیں ہیں. اس کے افسران اور جانباز ملکی صورت حال
کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اپنی قیادت کو افسران اور اہلکاروں کی رائے سے آگاہ کرتے ہیں.
فوج کیلئے ملکی سلامتی اور استحکام سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے. اس صورت حال میں فوجی جنرلز کیلئے سیاسی شخصیت
سے تعلقات اہمیت نہیں رکھتے. امکان ہے کہ فوجی قیادت قوم کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے اقلیتی سیاسی گروہوں کی
خاطر کہ وہ فوج کی جیب میں ہیں حکومت دے کر پاکستان کی مخدوش معیشت پر ہرگز ضرب نہیں لگائے گی. قوم نے تحریک انصاف
کو حکومت سازی کیلئے مینڈیٹ دیا ہے۔

عمران خان کی مستحکم حکومت کا تختہ کرکے پاکستان کو مشکل ترین صورتحال سے دوچار کیا گیا تھا. اب وقت ہے کہ عوامی رائے کا احترام
کیا جائے اگر عدالتیں پی ٹی آئی سے وابستہ امیدواروں کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں جو ووٹوں میں مبینہ ہیرا پھیری کو چیلنج کررہے ہیں اسے
قبول کرلینا چاہیئے. اس کے علاوہ پی ایم ایل این اور پی پی پی کے درمیان اس بات پر بھی اختلافات ہوں گے کہ وزارت عظمیٰ کا
امیدوار کس کو ہونا چاہیئے لہٰذا اگرچہ شریف خاندان امید کررہے ہوں گے کہ وہ اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن یہ آسان کام
نہیں ہوگا.

شیر بوڑھا ہوگیا

کنگز کالج لندن کی سینئر فیلو عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج مسلم لیگ  (ن) کی قیادت میں ایک کمزور اتحاد بنانا چاہتی ہے.
اس کے علاوہ فوج کی قیادت کو انتخابی نتائج کی اس طرح سے توقع نہیں تھی کہ مسلم لیگ(ن) اس قدر میدان چھوڑ چکی ہے. مسلم
لیگ(ن) کو فوجی مقتدرہ نے جس طرح کا میدان دیا تھا.اُس  حساب سے تو مسلم لیگ(ن) کو 170 نشتیں لینی چاہیئے تھی مگر اب
شیر بوڑھا ہوگیا ہے جسےکوّا  بھی ٹھونگیں مار رہا ہے. زیادہ دیر تک سی ایم ایچ کے ونٹلیٹر پر مسلم لیگ(ن) کو  نہیں رکھا جاسکتا. مسلم
لیگ(ن) کو ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر چلنا ہوگا۔

کنگز کالج لندن کی سینئر فیلو عائشہ صدیقہ کا کہنا ہےامکان ہے کہ فوج پی ایم ایل این اور پی پی پی کو اکٹھا کرنے والی مخلوط حکومت کی پشت
پناہی کرے گی لیکن یہ ابھی تک غیر یقینی ہے کہ اس کی قیادت کون کرے گا. زرداری، شہباز شریف یا نواز شریف کس کو وزیراعظم
کے منصب پر بیٹھایا جائے گا.
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہہ دیا ہے کہ ان کی پارٹی کے بغیر وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان صوبوں میں
بھی حکومت نہیں بن سکتی. کوئی بھی حکومت سیاسی زہر کو دور کیے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکے گی. اس کا صاف مطلب
ہے کہ حکومت کو چاہے صوبے میں  یا وفاق میں تحریک انصاف کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا.

دیرینہ خواہش بھی قربان کرنے کو تیار

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مجھے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا لیکن اگر ہم نے اسے
تبدیل کرنا ہے تو ایک اور اجلاس بلانے کی ضرورت ہے.ہم فیصلہ کریں گے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے.بلاول نے واضح کردیا ہے کہ
اُن کی پارٹی تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہے. وہ اپنی دیرینہ خواہش کو بھی قربان کرسکتے ہیں. یہ بات واضح ہے کہ موجودہ
انتخابی نتائج ہر کسی کیلئے کڑا امتحان ہیں. نتائج کے اعلان میں تاخیر نے نتائج کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھادیئے ہیں۔