نوازشریف نے پرواز سے پہلے ہی رہنماؤن کے پر کاٹ دیئے؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے اپوزیشن کی متوقع کل جماعتی
کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
اور یوں نوازشریف نے “شہباز” کی ممکنہ پرواز سے پہلے ہی ان کے پر کاٹ دیئے ہیں جنہوں نے اپنا
“ویٹو” ووٹ کا اختیار استعمال کرتے ہوئے پارٹی کو اے پی سی میں شرکت سے منع کر دیا ہے۔

پنجاب کی پگ عثمان بزدار کی جگہ ایک اور عثمان بزدار؟

ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی قیادت کو بھیجے گئے اپنے خصوصی پیغام میں دو ٹوک کہا ہے کہ
اپوزیشن پارٹیوں کی مجوزہ اے پی سی اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ ہے جو اس کل جماعتی کانفرنس کے
ذریعے ان ہاؤس تبدیلی کے لئے اپوزیشن سے کوئی امیدوار نامزد کروانا چاہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق “نون” لیگ کے قائد نواز شریف نے ایاز صادق سے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جو
اے پی سی بلائی جارہی ہے وہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کی گیم ہے۔
لہٰذا ہم نے اس میں شریک ہی نہیں ہونا پارٹی صدر شہبازشریف سے ناراض ہونے کی وجہ سے نواز شریف نے انہیں اپنا پیغام بھی ایاز صادق ہی کے ذریعے بھجوایا ہے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے پارٹی قائد کے فیصلے سے پارٹی صدر ، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو آگاہ کیا جس پر شہباز شریف نے بدھ کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے فون پر رابطہ کرکے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔
اس سے پہلے شہبازشریف نے اے پی سی کے میزبان مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرکے “نون” لیگ کی شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی تو مولانا فضل الرحمن نے بلاول بھٹو کے ذریعے شہبازشریف کو پیغام بھجوایا تھا اور اے پی سی میں شرکت کی درخواست کی تھی۔

“نون” لیگ کے مرکزی رہنما سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اے پی سی میں شرکت کی اجازت کے لئے خاموشی سے لندن گئے اور وہاں مقیم پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کی۔
اس موقع پر لندن میں شریف فیملی کی خفیہ میٹنگ میں اپوزیشن کی اس متوق آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں صلاح مشورہ کیا گیا جو جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے طلب کر رکھی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کی ہائی کمان کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی کے شہباز شریف گروپ اور مریم نواز گروپ میں اس بات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا کہ کسی “ان ہاؤس” تبدیلی کے لئے “نون” لیگ کی طرف سے نئے وزیراعظم کے لئے ایاز صادق امیدوار ہوں گے جنہیں اے پی سی میں متحدہ اپوزیشن کا متفقہ امیدوار بنوایا جائے گا۔

تاہم اس دوران پارٹی قائد نواز شریف کو اطلاعات ملیں کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنے “چانس” کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔
پچھلے دنوں نیب کی ٹیم کے ذریعے ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے کا ڈرامہ دراصل شہبازشریف کا شو بنانے کے لئے رچایا گیا تھا جس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ کا اصل ہدف شہبازشریف ہیں جو بیماری کے باوجود اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔
حقیقت میں نیب کو مقتدر حلقوں کی طرف سے شہباز شریف کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایات تھیں۔
ان رپورٹس کے بعد سے “نون” لیگ کے قائد نوازشریف پارٹی صدر شہبازشریف سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔
جنہیں باور کروا دیا گیا ہے کہ “نون” لیگ میں سے اسٹیبلشمنٹ کی چوائس بھی صرف شہبازشریف ہیں جو کہ اپنے “چانس” کے لئے بے تاب ہیں۔

دوسری طرف “لیڈ رول” میں نظر آنے والے مریم نواز گروپ کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اسی دوران پارٹی قائد سے رابطہ کر کے نوازشریف کو بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ کی ایک اعلیٰ سطح شخصیت نے ان (شاہد خاقان عباسی) سے رابطہ کرکے پیغام دیا ہے کہ مقتدر حلقے نئے ممکنہ بند و بست میں انہیں یعنی شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم نوازشریف نے ذرائع کے مطابق ایاز صادق اور شاید خاقان عباسی ، دونوں کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہا ہے “کوئی ضرورت نہیں اسٹیبلشمنٹ کی کسی گیم کا حصہ بننے کی۔
ہم نے عبوری مدت کے کسی کھیل میں کسی صورت شریک نہیں ہونا اور ان ہاؤس چینج کے ذریعے کسی وسط مدتی وزیراعظم کے لئے کوئی بندہ نہیں دینا۔


شیئر کریں: