ندیم سرور اور صاحبزادوں کا ایک اور مقدس کلام گانوں کی نقالی پر

شیئر کریں:

نوحہ اور منقبت خواں سید ندیم رضا المعروف ندیم سرور نے ایک مرتبہ پھر سے مقدس ہستیوں کے
شان میں لکھا ہوا کلام گانوں کی طرز پر گایا ہے۔ فلمی اسٹائل میں ندیم سرور اور ان کے صاحبزادوں
علی شناور اور علی جی نے لپسنگ کے ساتھ بھرپور ادکاری کی ہے۔

امام المتقین حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی شان میں کلام ” نعرہ علی دا” کو معمر رانا پر فلمائے گئے “لائیاں
لائیاں میں تیرے نال ڈولنا” گانے کو کاپی کیا گیا ہے۔

اسی طرح معروف اداکارہ بشری انصاری کا پاکستان بھارت کے لیے امن پر گایا گیا “گوانڈنے گوانڈنے گل
سن گوانڈنے” ہی کی لہہ پر ندیم سرور نے بھی لپسنگ کی ہے۔ حالانکہ بشری انصاری نے یوٹیوب پر لکھا ہے
ہوا کہ گانے اور اس کی طرز کے جملہ حقوق محفوظ ہیں اور چوری کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی
کی جائے گی۔

محرم کو لوگ خودنمائی اور خود پرستی کا ذریعہ بنانے لگے

اس سے قطہ نظر ہمارے نوحہ خوانوں اور منقبت خوانوں نے کچھ نیا کرنے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی
جنگ میں سب کچھ پائمال کر کے رکھ دیا ہے۔
احترام اور عقیدت سب ان بناؤٹیوں کی وجہ سے ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ آئمہ اہلبیت کا ذکر ہر کوئی
اپنے اپنے انداز میں کرتا ہے لیکن اس چیز کی بھی کسی نے اجازت نہیں دی کہ گانوں اور قوالیوں کی طرز
پر منقبت پڑھی جائیں۔
مقدس ہستیوں کا عزت و احترام ہر چیز پر مقدم ہے وقتی شہرت اور آگے نکلنے کی دوڑ نے انہیں قوت
سماعت و گویائی سے محروم کر دیا ہے۔ یہی نہیں آپ مجالس اور میلاد کے پوسٹر دیکھیں ان پر بھی
ایسا لگتا ہے کہ یہ ماڈلنگ کے اشتہار چھاپے جارہے ہیں۔

علما اس طرز عمل کی سخت مزمت کرتے ہوئے کہتے ہیں‌ بڑے بڑے اور ایسے القابات سے نوازا جاتا ہے
جن کا شائد وہ مطلب بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ آئمہ اہلبیت کا ذکر ادکاری اور ریاکاری کا محتاج نہیں
لیکن اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کی ذہنی پستی ضرور واضح ہو جاتی ہے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں‌ کی حوصلہ شکنی کریں


شیئر کریں: