نجف سے کربلا تک واک اور زائرین کی خدمت کیوں؟

شیئر کریں:

تحریر فاطمہ بتول
نجف سے کربلا تک لاکھوں زائرین ہر سال اربعین کے موقع پر پیدل سفر کرتے ہیں۔ ان مسافروں کو زائرین امام حسین علیہ السلام کہا جاتا ہے۔ اور یہ سفر”سفر عشق” یا سفرِ زائرین کہلاتا ہے۔ نجف سے کربلا تک اسی کلومیٹر پر محیط اس پیدل سفر میں تین سے چار دن لگتے ہیں ۔ اس عشق و قربانی کے سفر میں ہر رنگ نسل، عمر اور مزاہب کے انسانیت سے محبت کرنے والے انسان حصہ لیتے ہیں۔
یہ سفر نجف میں باب العلم حصرت علی کرم اللہ وجہ کے روضہ سے شروع ہوکر کربلا معلیٰ میں امامِ عالی مقام حضر ت امام حسین ؑکے روضہ پر مکمل ہوتا ہے۔ پھر اربعین کے دن شہدائے کربلا کو اپنے اشکوں سے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
اس سفر کے راستے میں آباد کچے پکے گھروں کے مکین زائر امام عالی مقام کے میزبان بننے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ اپنے دروازے کھول دیتے ہیں۔ زائرین کی کا تعلق کسی بھی خطے اور زبان بولنے والے سے ہو، اور زبان سمجھ میں آئے یا نہ آئے بس اپنے امام کا پرسہ دینے والے زائر کو گھر لے جاتا ہے۔
کپڑے دھونے اور جسم دبانے سے لے کر کھانا کھیلانے تک زائر امام کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے انجام دینے کو میزبان اولین خدمت سمجھتے ہیں۔ مقامی افراد خادم بن کر زائرین کی خدمت کے لئے چوبیس گھنٹے ایک پیر پر کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے زائرین کو سفر میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کیونکہ کسی سائل کی طرح یہاں کے مقامی لوگ ان زائرین کی خدمت کرنے کے لئے تڑپتے نظر آتے ہیں۔
اس عشق کے سفر میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو دنیا میں کہیں بھی نظر نہ آئیں۔

زائرین کے لئے بہترین رہائش کے انتظام کے ساتھ ساتھ ناشتہ، کھانا، روائتی قہوہ اور موبائل چارجرز تک کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ خدمت پر مامور خادموں کے چہروں پر اطمینان دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ یہ خادم خدمت گزاری کو عبادت سمجھتے ہیں۔ سفر کی تھکن دور کرنے کے لیے زائرین کے پیروں تک کی مالش کی جاتی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ ایثار اور محبت کی ایسی مثال دنیا کے کسی بھی کونے میں ملنا مشکل ہے۔
خادمین امام حسین علیہ السلام کا کہنا ہے کہ وہ زائرین کی خدمت کسی مال و دولت کی لالچ میں نہیں کرتے وہ خود کو خادمین کی فہرست میں شامل کرنے کو اپنے لیے دنیا کی سب سے نعمت تصور کرتے ہیں۔ حقیقتا ان میں سے کئی خادمین مال و دولت میں کئی زائرین سے بہت زیادہ امیر ہوں گے لیکن محبت آل رسول میں خود سے بے نیاز ہوکر خدمت گزاری میں مصروف رہتے ہیں۔
دنیا کی تہزیبوں کا مطالعہ کرنے والوں کے نزدیک یہی وہ اسلام کا نظریہ ہے جو محبت، امن، پیار، خدمت، قربانی اور روحانی نظریات سے بھرپور ہے۔


شیئر کریں: