میڈیا کا تماشہ کب تھمے گا؟؟

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

ملکت خداداد میں کہنے کو جمہوری حکومت ہے اور ہو گی بھی لیکن معاملات یہاں کے دن بدن عجیب سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں کورونا کی ابتلا سے پیشتر یہاں کے صحافتی حلقوں کو تبدیلی نما ابتلا کا سامنا تھا اور ہے

بولنے لکھنے اور کہنے والوں نے اس حکومت کی آمد سے قبل انجانے میں اسی شخص کو جو آجکل وزیر اعظم ہے کو آخری امید اور نجات دہندہ سمجھ کر مراتھن ٹرانسمیشنز چلائی تھیں مجھے یاد پڑتا ہے گھنٹوں اسکے خطاب دکھانے کے لئے مجھ جیسے کئی مزدور صحافی انتظار میں اپنی ٹیموں کے ہمراہ جائے تقریر پہ موجود رہتے تھے

پھر پارٹی ترانوں اور نعروں کے بعد ٹھمکوں کا طوفان بد تمیزی اور جس طرح الیکشن میں ووٹوں کی تعداد آگے پیچھے ہوا کرتی ہے اسی طرح ہم نے بھی جلسوں میں آنے والے افراد کی تعداد آگے پیچھے یا کم از کم اتنی دکھائی کہ لوگوں کو لگنے لگا کہ آدھا پاکستان عمران خان کے پیچھے ہے

جبکہ حقیقت یہ تھی کہ موجودہ حالات نے ہمیں سمجھایا کہ اکیلا عمران خان اور اسکے ان داتا پورے پاکستان کے پیچھے تھے اور ہیں اداروں کی تباہی پہ بات نہیں کروں گا ، بیروزگاری ، معیشت، نظام صحت اور تعلیم کے ساتھ اس ہونہار وزیر اعظم کے نوٹسز پر بھی بات نہیں کروں گا

مجھے اپنی بات کرنی ہے کہ اس حکومت کے آتے ہی مجھ سے میری شناخت اور روزگار کا ذریعہ چھیننے کی کوششیں اس حکومت نے تیز کر دیں میڈیا کو مافیا کہا گیا کئی وزرا نے اشاروں کنایوں میں میڈیا کے سوالات اٹھانے پر اعتراض کئے اور سمجھانا چاہا کہ عالم پناہ سچ سننے سے سخت خفا ہیں

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک عزیز میں چینلز بند ہونا شروع ہو گئے چینلز میں چھانٹیاں برطرفیاں تنخواہوں میں کٹوتیاں اور یہاں تک کے یکمشت بیک جنبش قلم پورے پورے میڈیا ہاوسز بند کر دئیے گئے

اس سب میں اکیلا عمران خان یا اسکے مشیر قصور وار نہیں ہیں قصور وار میڈیا مالکان بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے بزنسز اور مفادات کو حفاظتی خول چڑھانے کے لئے میڈیا چینل بنا لئے نیو نیوز اور 24 نیوز کے حالات قریب قریب ایک جیسے تھے

یعنی پیمرا کا اعتراض رہا کہ دونوں چینلز کے لاسئینس کسی اور کیٹگری میں ہیں اور یہ نیوز کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں اظہار وجوہ کے نوٹسز اور قانونی طریقہ کار تک تو سمجھ آتا تھا کہ سیٹھ اور پیمرا آنکھ مچولیاں کر رہے ہیں

نیو نیوز نے معاملات سیٹل کر لئے اور دوبارہ سکرین بحال ہو گئی لیکن 24 نیوز کا لائیسینس معطل ہوا تو مالک کی جانب سے چینل کو مکمل بند کرنے کا حکم صادر کر دیا گیا یکمشت ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دئیے گئے

پھر صحافیوں نے روایتی انداز میں اپنے روزگار کے بچاو کی امید پر پیمرا آفس کا گھیراو کیا تو پیمرا کے گارڈز نے مبینہ طور پر فائرنگ کی اور لاہور میں باقاعدہ پتھراو کیا جس سے ایک اسائنمنٹ ایڈیٹر کا سر پھٹ گیا اور متعدد صحافی زخمی ہو گئے

اس سے بھی پہلے آجائیں تو آپ نیوز، وقت نیوز بند ہوئے تب بھی صحافی کسی مصلحت اور آپسی اختلافات اور ناراضیوں پہ ایک دوسرے کے لئے نہ نکلے ، ایکسپریس نیوز نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر مارچ میں فیصل آباد سے پورا اسٹیشن بند کر دیا میں اس ٹیم کا حصہ تھا اور تب سے اب تک بیروزگار گھوم رہا ہوں

مجھ جیسے ہزاروں ایسے ہیں جو مختلف چینلز کا حصہ تھے اور بیروزگار ہیں کچھ زندگی کا بوجھ اتار کر دنیا سے چلے گئے کچھ زندگی کے دن گن رہے ہیں اور کچھ تو متبادل روزگار کی تلاش یا مزدوریوں کی تلاش میں روزانہ نکلتے ہیں مگر بے نیل و مرام لوٹ آتے ہیں

آپ نیوز چینل بند کر دیا گیا

ہم ورکرز صحافیوں کا کیا قصور تھا؟؟ بڑے بڑے دعووں اور انصاف کی نام نہاد علمبردار پارٹی کی حکومت نے آتے ہی مجھ جیسوں کے گلے گھونٹے جس سے اس خیال کو اور تقویت ملی کہ یہ حکومت بولنے اور لکھنے والوں سے خوفزدہ ہے

اقدامات اور بیانات کے تسلسل کو دیکھا جائے تو ملک عزیز میں صحافیوں کو بھوکے پیٹ اور گولیوں سے انکے سینے بھرنا اس حکومت کا اصل منشور ہے لاکھوں گھر کروڑوں نوکریاں اور سہولتیں فراہم کرنے کے ڈرامے باز بیانات سے اب عوام بھی عاجز آچکی

کورونا نے چینل ٹوئنٹی 24 اور 42 کا آفس کل سے بند

پھر میڈیا مالکان اور نام نہاد صحافتی لیڈران کو سمجھنا چاہئیے کہ چینلز ورکرز کے ساتھ ہی ہرے بھرے لگتے ہیں اگر آپ اپنے معاملات کا گملا ورکرز کے سر پہ پھوڑو گے تو بھائی سوال تو اٹھیں گے بڑے صحافی اور صحافتی لیڈران خاموش ہیں کیونکہ انکے گھروں میں دانے ہیں انکے کملے بھی سیانے ہیں

عظمی خان اور ملک ریاض کی بیٹیوں کے کیس نے میڈیا کا پول کھول دیا

موجودہ حکومت نے اب صحافیوں پہ ہاتھ چھوڑنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مختلف شہروں میں احتجاج ہوں گے بس اور ہو گا کچھ نہیں لیکن ورکر صحافی کہتے ہیں

بجھ رہے ہیں ایک اک کر کے عقیدوں کے دئیے
اس اندھیرے کا بھی لیکن سامنا کرنا تو ہے

جھوٹ کیوں بولیں فروغ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے

مر مر کے جی رہے ہیں اور لہو کے گھونٹ پی رہے ہیں فی الوقت ریاست نام کا کوئی پنچھی نظر نہیں آتا یوں لگتا ہے لاقانونیت اور تھڑے بازوں کا راج ہے سب اپنے اپنے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں اور صحافی مر رہے ہیں

غریب عوام اور صحافیوں کا حال ایک جیسا ہے کورونا ابتلا سے قبل ہی ملک عزیز سے نوکریاں چھینے جانے کا عمل شروع ہو گیا تھا معیشت ڈوب گئی تھی اور رہی سہی کسر ذہین فطین مشیروں نے پوری کر دی

سوشل میڈیا پر کورونا کی غلط خبریں شیئر کرنے پر 402 افراد دھرلیے گئے

ایسے ایسے بھونڈے اور جعلی مشورے دیکر فیصلے کروائے گئے کہ الامان پھر بھوک سے تنگ آکر کوئی چیختا چلاتا ہے تو اسے غدار قرار دیکر قانون کی بھول بھلئیوں میں الجھا دیا جاتا ہے کہ کوئی سر اٹھا کر نہ چلے اور بس سب خاموش رہیں جو چل رہا ہے اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائیں

لیکن ہم کیسے کسی ان ٹرینڈ ڈرائیور کو ایکسپرٹ مان لیں یار ایسے کہاں ہوتا ہے ، 24 نیوز کا لائیسینس انٹرٹینمنٹ بیسڈ تھا اس بنا پہ معطل کر دیا گیا لیکن احتجاج کرنے والوں پہ فائرنگ اور پھراو کا حکم کس نے دیا؟؟؟ کون ہے جو کھلے عام بے دریغ غیر انسانی احکامات صادر کر رہا ہے

‏ٹی وی چینلز مالکان کو تنخواہیں ادا کرنے کا حکم

صحافی تو شروع دن سے ظلم سہتے آئے ہیں اور سہتے جا رہے ہیں لیکن نہ جانے کب تماشا ختم ہو گا ، خودکشیوں اور لاشوں کی منتظر حکومت کی آنکھیں کبھی نہیں کھلیں گی صرف عمران خان رہ جائے گا سب غریب مر جائیں گے

ایسی سوچ اور نفسیات آجکل صحافیوں کی ہو گئی ہیں کہ بغاوت جیسے خیالات سب کے ذہنوں میں پنپ رہے ہیں مگر حق کے لئے بولنے والوں کے لئے غداری کے سرٹیفکیٹ والی فیکٹری یہاں خوب زوروں سے چلتی ہے

خدا ہی کوئی معجزہ دکھلائے تو کچھ بات بنے وگرنہ خان اور اسکے حواریوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی

الامان

ورکر صحافیوں کے نام

‏میں آج اسی کربلا میں
بے آبرو نگون سر
شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں
جہاں سے میرا عظیم ہادی
حسین (ع) کل سرخرو گیا ہے


شیئر کریں: