میرا جسم میری مرضی،عورتوں کے مسائل کا حل یا مسائل میں اضافہ

شیئر کریں:


تحریر: صفورا خالد

میرا جسم میری مرضی! یہ ایک جملہ زبان زدِ عام ہو چکا ہے۔

ہر کوئی اپنی سوچ اور فہم کے مطابق اس پر اظہارِ رائے کر رہا ہے۔

میرا جسم میری مرضی ایک ایسا جملہ ہے جس کا کوئی واضح اور مطلب نہیں یعنی کہ جتنے دماغ اتنے مطلب۔

ہمارے معاشرے میں ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور ہر کوئی ہر بات کو اپنی سوچ کے رنگ میں رنگتا ہے اور پھر اپنے نقطے کو ٹھیک اور باقی سب ذہنوں کو غلط قرار دینے پر ڈٹ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:خلیل الرحمان قمر کی بدتمیزیاں آخر یہ بندہ ہے کون ؟

عورت مارچ میں بہت سے ایسے سلوگن استعمال ہوئے جو عورتوں کے حقوق کی عکاسی کرنے کے بجائے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنے۔

یا مہذب معاشرے کے بلکل منافی جملے بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

میرا جسم میری مرضی بھی ان میں سے ایک تھا۔

میرا جسم میری مرضی کا سلوگن آیا کہاں سے؟

مزید پڑھیں:ٹی وی چینلز اور حکومت کی ایک ہی چال

مغرب سے مغرب میں اس سے کیا مراد ہے؟

پراسٹیٹوشن کو جائز قرار دیا جائے، اعضاء بیچنے کی پابندی کو ختم کیا جائے،

ابارشن کو جائز قرار دیا جائے وغیرہ۔

مغرب میں کوئی تحریک چلے اور اسے ہمارے معاشرے میں فیشن سمجھ کر اور معاشرے میں ایک اونچا مقام بنانے کے لیے اپنایا نہ جائے
ایسا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں:حق مہر نہیں دے سکتے تو پھر شادی کیوں کرتے ہو؟

اسی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہمارے معاشرے کے اشرافیہ نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے ادنی طبقے کی مظلوم عورت کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی جائے۔

ہمارے معاشرے میں ادنی طبقے سے تعلق رکھنے والی عورت جو واقعی مسائل کا شکار ہے اسے اپنے بنیادی حقوق جو اسلام کی جانب سے ملے ہیں

میسر ہونا تو دور کی بات انہیں ان حقوق کےمتعلق کو معلومات ہی نہیں ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلام نے جتنے بیش بہا حقوق جو عزت و احترام عورت کو دیا ہے

اس سے متعلق تعلیمات ان عورتوں کو دی جائے مگر ہوا یہ اشرافیہ جو کہ آزادی میں حد سے تجاوز کیے ہوئے ہیں

یہ بھی پڑھیں:“میرا جسم میری مرضی” حمل گرانے میں اچانک اضافہ

اپنی اس غیر ضروری آزادی کو صنعت کرنے کے عورتوں کے حقوق کی آواز بلند کی۔

لوگوں کے ذاتی مفادات کی وجہ سے اس تحریک مقصد بلکل ختم ہو گیا۔

اگر مقصود یہی تھا کہ کم عمر کی شادیاں، زبردستی کی شادیاں، جنسی ہراسانی، ونی، کاری، غیرت کے نام پہ قتل بند کیے جائے
تو اس کے لیے بجائے مغرب سے اٹھا گیا میرا جسم میری مرضی کا سلوگن استعمال کرنے کے بجائے کچھ ایسا سلوگن بنایا جاتا جس میں معاشرے کے ان سنگین مسائل کی عکاسی ہوتی۔

ان سلوگنز سے معاشرتی مسائل تو وہیں کہ وہیں رہ گئے جبکہ ایک نئی بحث غلط اور صحیح کی بحث شروع ہو گئی۔

جن مظلوم اور حقوق سے محروم خواتین کے نام پر یہ اقدام شروع کیا گیا ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہ آ سکی۔

میرا جسم میری مرضی نے معاشرے کو الجھا کر رکھ دیا ہے ایسا سلوگن چنا ہی کیوں گیا

جس سے متعلق ہر پلیٹ فارم پر بیٹھ کر وضاحتیں دینی پڑ گئیں مطلب سمجھانے پڑ گئے۔

مسئلے کو حل کرنے کے بجائے نئے مسئلے میں پھنس گئے۔

فیمنزم کے نام پر چیخنا چنگاڑنا اور چیخ چیخ کر اپنی غلط بات کو بھی صحیح ثابت کرنے کی جو رسم شروع کی ہے

وہ معاشرے کو سنورا تو کسی طور نہیں سکتی مگر معاشرے میں مزید بگاڑ ضرور پیدا کرے گی۔

کوئی آپ کے نقطہ فکر سے اختلاف کرے تو اس کے لیے جینا محال کر دینا اس کو بین کروا دینا بھی اسی رسم کا حصہ ہے۔

اس غلط اور صحیح کی بحث نے معاشرے کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

میرا جسم میری مرضی کا سلوگن قطعاً ہمارے معاشرے کی عورت کے مسائل کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ ان کی مشکالات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور بن رہا ہے۔

عورت کے تعلیم کے مسائل وراثت کے مسائل جنسی ہراسانگی مسائل تو کہیں دب کر رہ گئے ہیں

تکرار رہ گئی تو میرا جسم میری مرضی کی


شیئر کریں: