مہنگائی پر احتجاج کرنے والی آزاد کشمیر حکومت نے آٹا ملک بھر سے مہنگا کردیا

شیئر کریں:

رپورٹ ابوالقاسم حیدری

وفاق میں قائم تحریک انصاف کی حکومت آج کل مہنگائی کی وجہ سے کافی تنقید کا شکار ہے
اور دوسری جانب اپوزیشن کے متحدہ اتحاد پی ڈی ایم کے پاس میں سب سے بڑا پوائنٹ اسکور
مہنگائی ہی ہے جس میں بنیادی ضروریات کی چیزیں سر فہرست ہیں ان میں آٹا بھی شامل ہے۔

ایک جانب جہاں حکومت پر مہنگائی کے حوالے سے تنقید جاری ہے وہی آزادکشمیر میں قائم
مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی آٹے کی قیمت بڑھا کر عوام آٹا بم گرا دیا ہے۔

آزادکشمیر میں کورونا پھر سر اٹھانے لگا

تین ہفتے قبل جب وزیراعظم آزادکشمیر کی سربراہی میں آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس
منعقد ہوا جس میں یہ بتایاگیا کہ وفاق سے ریاستی حکومت کی گرانٹ میں 15 ارب کم کردیے
گئے ہیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیراعظم نے ٹویٹ بھی کیا۔

اس سے قبل حکومت آزادکشمیر کا یہ موقف بھی رہا کہ ریاست میں دور افتادہ علاقوں کی وجہ
کیرج چارجز کی وجہ سے آٹے کی قیمت زیادہ ہے۔

آزادکشمیر سے بھی زیادہ دور گلگت بلتستان میں 20 کلو کا تھیلا 650 روپے کا دستیاب ہے وہاں کے
عوام کو سبسڈی پر آٹا فراہم کیا جارہا ہے۔

عوام کی جانب سے آٹےکو مہنگے داموں بیچنے پر شدید احتجاج کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر اور چیف سیکریٹری کو آٹے کی قیمتیں کم کرانے میں
کردار ادا کرنا چاہیے۔

فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت آزادکشمیر 20 کلو آٹے کے پانچ بیگز پر 1200 روپے منافع کما رہی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ ایلوکیشن کی مد میں حکومت 6 ملین روپے کماچکی ہے مگر اس
کے باوجودآٹے کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی جارہی۔

ذرائع کے مطابق فلور ملز سے حکومت 1475 روپے میں 40 کلو آٹا خرید کر عوام کو 1900 روپے میں
فروخت کررہی ہے۔

آزادکشمیر سے ملحقہ راولپنڈی اسلام آباد میں 20 کلو آٹے کے تھیلے 860 روپے میں فراہم کیے جارہے ہیں
اور اس حوالے سے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کی طرف سے سخت ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

شہریوں نے وفاقی حکومت سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنے
پروٹوکول کے خرچے نکالنے کے بجائے آٹے کی قیمت فلفور کم کی جائے تاکہ غریب آدمی تک روٹی کا
حصول ممکن ہوسکے۔


شیئر کریں: