مہنگائی نے تدفین کے مراحل بھی مشکل بنا دیے، کفن اور قبر مزید مہنگی

شیئر کریں:

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے یہی صورت حال پچھلے چند سالوں‌ سے پاکستان کے غریب عوام کی ہے.
مہنگائی کے ہاتھوں‌ پریشان حال متوسط طپقہ پہلے ہی دو روٹی اور بچوں‌ کی اسکولوں کی فیسوں‌ سے پریشان ہے
ایسے میں کورونا کا علاج اور پھر کورونا سمیت مختلف امراض‌ کی وجہ سے اہل خانہ میں‌ کسی کی موت ہو جائے
تو بچ جانے والا زندہ شخص بھی مر ہی جاتا ہے.

جمع پونچی اور قرض‌ لے کر پہلے اپنے پیارے کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے اور خدانخواستہ موت ہونے پر
تدفین اور بعد کے مراحل کی سوچ ہی گھر کے سربراہ کو مزید کمزور کر دیتی ہے.

مہنگائی نے جہاں‌ علاج معالجہ اور گھانے پینے کی اشیا مہنگی کی ہیں وہیں‌ کفن اور قبروں‌ کی قیمتیں بھی بڑھا دی
گئی ہیں.

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جینے کے ساتھ ساتھ مرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے. اشیاء خورونوش اور پٹرول کی قیمتوں
میں اضافے کے بعد کفن کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے.

حیدرآباد میں کفن 500 روپے مہنگا اور قبر کی جگہ بھی دس ہزار روپے اضافے کے ساتھ بیچی جارہی ہیں. 11 سو سے
بڑھا کر کفن کی قیمت 16 سو روپے کردی گئی ہے.

قبرستان میں تدفین کے لیے تیار قبر اب 15 ہزار کے بجائے 25 ہزار میں ملنے لگی. زندگی میں تو سکون میسر نہیں‌
آتا اب قبر میں جانے کے مراحل بھی انتہائی دشوار اور مہنگے بنا دیے گئے ہیں.


شیئر کریں: