مہنگائی نے بچوں کا اسکول لنچ بکس بھی آدھا کردیا

پاکستان میں بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان سے اسکول جانے والے بچوں کا لنچ بکس بھی آدھا کر دیا. توانائی اور طاقت
فراہم کرنے والی اشیا غائب ہوچکی ہیں. حکومتیں بدلتی رہیں لیکن مہنگائی کے آگے کسی نے بند باندھنے کی کوشش نہ کی
مہنگائی کے سیلاب نے بچوں کی خوراک بھی کم کردی ہے.
اسکول جانے والے بچوں کے لیے صبح کا ناشتہ بھی فراہم کرنا ماں کے لیے مشکل ہو گیا. سلائس بریڈ (ڈبل روٹی) بنانے والی
کمپنیوں نے بریڈ پر 40 روپے تک کا اضافہ کر دیا.

پاکستانی کرنسی کی بے توقیری، ڈالر 300 روپے کا ہوگیا

پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی تمام اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے. کچھ ماہ قبل
پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی تھی.
پہلے سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے مزید اضافہ کر دیا گیا. شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوام کو
لاوارث چھوڑ دیا ہے. پہلے مہنگائی مہینوں‌ بعد ہوا کرتی تھی پھر مہینے اور پھر ہفتوں بعد لیکن اب تو روزآنہ کی بنیاد پر
قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں.
انتظامیہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھی ہے اور دکاندار اپنی مرضی سے چیزوں پر قیمتیں لکھ کر پیسے وصول کر رہے ہیں.
سونے پر سہاگا رہی سہی کسر بجلی، گیس اور ٹیکسز نے پوری کر دی ہے.