مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن پروجیکٹ سے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی

شیئر کریں:

اسلام آباد (شِںہوا) پاکستانی آپریشن عملہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ محمد حارث محمود 660 کے وی
مٹیاری۔ لاہور ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ پر لاہور کنورٹر
اسٹیشن پر کام کررہے ہیں۔
وہ اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہیں کیونکہ اس منصوبے پر کام کرکے انہیں اپنی تکنیکی
مہارت کو نکھارنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ملا ہے۔
حارث نے شِںہوا کو بتایا کہ “انہیں پاکستان میں ایچ وی ڈی سی کے اس پہلے منصوبے پر کام کرتے ہوئے بہت فخرمحسوس ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ ہمارے ترسیل کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہمارے بجلی کے نظام میں جو بھروسہ اور پائیداری لایا ہے اس پر میں حیران ہوں”۔
مٹیاری۔ لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبہ ، پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے مکمل کیا ہے یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اہم منصوبہ ہے جس نے ستمبر 2021 سے اپنا تجارتی آپریشن شروع کیا ہے۔
اس کی بجلی منتقل کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت 35 ارب کلوواٹ آور سالانہ ہے۔
حارث لاہور کنورٹر اسٹیشن کے ان 38 پاکستانی ملازمین میں سے ایک ہیں جو 23 چینی ملازمین کے ساتھ مل کر سال بھر اس منصوبے کا ہموار آپریشن یقینی بناتے ہیں۔
اسٹیشن کے آپریشن اور دیکھ بھال کے چینی سپروائزر وو مینگ شینگ نے کہا کہ اپنے کام میں مینٹور۔ آپرنٹس تربیتی طریقہ کار اپناتے ہوئے چینی ملازمین نے پاکستانی ملازمین کو ون آن ون تربیت دی ہے، تاکہ ان کے آپریشن اور دیکھ بھال کی مہارتوں کو تیزی سے نکھارنے میں مدد مل سکے۔


مٹیاری۔ لاہور 886 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں اہلکاروں کی تربیت سے لیکر آلات کی معاونت تک بہت سی چینی خصوصیات ہیں۔ اس پر سرمایہ کاری کی گئی، تعمیر ہوئی اور اسے چینی معیارکے مطابق اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنہ چلا رہی ہے اس منصوبے کا تقریباً 98 فیصد سامان چینی کمپنیوں نے فراہم کیا ہے۔
پاک مٹیاری ۔لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے شعبہ تعمیرات، آپریشن اور دیکھ بھال کے ڈپٹی ڈائریکٹر یوآن جی نے کہا کہ یہ منصوبہ سبز اور کم کاربن کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے جس پر چین سرگرمی سے عمل پیرا ہے۔ اس سے پاکستان میں سبز اور صاف بجلی فراہم ہوئی ہے.


شیئر کریں: