موت کا ڈرامہ کرکے 50 لاکھ ڈالرز کی انشورنس کا کلیم

شیئر کریں:

جعلسازی اور دھوکہ دہی کے واقعات دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں لیکن بھارت کے شہریوں کی جانب
سے جعلی انشورنس کلیم کرنے کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔

بیوی، باپ اور بچوں کو مار کے ان کی انشورنس کلیم کی جاتی ہے لیکن اب اپنی انشورنس کلیم کرنے کے
لیے کسی اور کو قتل کرکے جعلی کیس بھی فائل کیے جانے لگے ہیں۔

ریاست مہاراشٹرا کے ضلع احمدنگر میں پیش آٰیا جہاں بھارتی نژاد امریکی شہری پربھاکرنے 50 لاکھ ڈالرز
کی انشورنس حاصل کرنے کے لیے کسی ذہنی طور پر معزور شخص کو دوستوں کے ساتھ مل کے قتل کر دیا۔

ہوا کچھ اس طرح پربھاکر پچھلے 20 سال سے امریکا میں رہتا تھا جہاں 50 لاکھ ڈالرز کی بڑی کمپنی
سے انشورنس کرائی۔ اب وہ کچھ وقت سے وطن واپس آیا اور مہاراشٹرا میں رہنے لگا۔

پربھاکر نے پھر منصوبہ بندی کی کہ کسی طرح اپنے گاؤں میں رہائش پزیر زہنی طور پر کوئی معزور
شخص دیکھا جائے جسے قتل کر کے اور کاغزات میں اپنا نام درج کرالیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اس
نے چار افراد کی معاوضہ کے عوض خدمات حاصل کیں اور ذہنی طورپر معزور شخص کے پڑوس
میں گھر کرایہ پر لیا جہاں رہنا شروع کیا۔

قتل کی منصوبہ مکمل کر کے ایک زہریلا سانپ خریدا گیا اور اس سے بھی ذہنی طور پر معزور شخص
کو ڈسوا کے ماروادیا۔ سانپ سے ڈسوایا گیا اور جب موت کا یقین ہوگیا تو لاش قریبی اسپتال لے جائی
گئی اور کود کو ورثا قرار دیا۔

اسپتال سے پربھاکر نے اپنے نام کا موت کا سرٹیفکیٹ بنوایا اور اس پر تمام معلومات پربھاکر کی لکھوالیں پھر
امریکا میں دستاویزات بھیجے گئے جہاں بیٹے نے کیس فائل کردیا۔

انشورنس کمپنی والوں نے پربھاکر کا ماضی دیکھتے ہوئے شک کیا کیونکہ یہ پہلے بھی انشورنس کلیم کے
لیے جعلسازیاں کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ امریکا کی انشورنس کمپنی نے تحقیقات کے لیے ایک ٹیم بھارت
بھیجی اور پھر جلد ہی حقائق جان لیے۔ انشورنس کمپنی کی ٹیم نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا اور پربھاکر
سمیت دیگر چار افراد کو بھی گرفتار کر وادیا۔ ان پر دھوکہ دہی، جعلسازی اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔


شیئر کریں: