منفی پروپیگنڈہ کرنے پر “ہم نیٹ ورک” پہ ایک لاکھ پاؤنڈ کا ہرجانہ

نواز شریف کو العزیز یہ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیو سامنے لائے والے
ناصر بٹ نے “ہم نیٹ ورک یوکے” کے خلاف ایک لاکھ پاؤنڈ کا ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا. برطانوی
ہائی کورٹ کے جج ماسٹر ڈیگنل نے چینل کو مقدمہ کے اخراجات ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے.
جج نے چینل کو نواز شریف اور ناصر بٹ کے خلاف برطانیہ میں مستقبل کیلئے بھی بےبنیاد الزامات
لگانے سے روک دیا. عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ نواز شریف سے ناانصافی سامنے لانے پر ناصر
بٹ کو پی ٹی آئی حکومت اور پاکستانی میڈیا نے نشانہ بنایا.
مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ کے خلاف مہم سیاسی مخاصمت کے سبب چلائی گئی. ناصر بٹ کو نواز شریف
سے قربت اور ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کے سبب پی ٹی آئی حکومت اور چند اینکرز نے نشانے پر رکھا
جج نے ریمارکس دیے کہ ایک اینکر کے اس دعوی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ نواز شریف نے ناصر
بٹ کی سزا رکوانے میں کوئی کردار ادا کیا تھا.
الزامات کے باعث ناصر بٹ کو پریشانی اور خاندان پر حملے کے باعث وہ مناسب ہرجانے کا مستحق ہے.
مقدمہ واپس لینے کیلئے لیگی قیادت اور شریف خاندان کے افراد سے ناصر بٹ پر دباؤ ڈلوانے کو جج
نے پریشان کن صورت حال قرار دیا.


جج نے قبول کیا کہ ناصر بٹ کے بھائی کے تین قاتلوں کے قتل میں ناصر بٹ کا ہاتھ نہیں تھا. جج نے چینل
کی یہ استدعا قبول نہیں کہ پروگراموں کو زیادہ نہ دیکھے جانے کے سبب مطلوبہ ہرجانہ ادا کرنے کا
حکم نہ دیا جائے.
نواز شریف کے دست راست ناصر بٹ نے خود پر چینل کی طرف سے لگائے گئے سنگین الزامات پر
ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا.
نواز شریف کو العزیز یہ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیو ناصر بٹ سامنے
لائے تھے. ویڈیو میں جج ارشد ملک تسلیم کر رہے تھے کہ انھیں بلیک میل کرکے یہ فیصلہ سنانے پر
مجبور کیا گیا.
جج ارشد ملک کی ویڈیو مریم نواز کے حوالے کرکے ناصر بٹ خود برطانیہ آگئے تھے. 6 جولائی 2019
کو مریم نواز نے دھماکہ دار پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے لاکر سازش بے نقاب
کی تھی.
ناصر بٹ کی بنائی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت اور مخصوص میڈیا ناصر بٹ
کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا تھا.
ہم ٹی وی نیٹ ورک نے اپنے دو پروگراموں میں ناصر بٹ پر سنگین الزامات عائد کئے تھے. ایک پروگرام میں
فردوس عاشق اعوان نے ناصر بٹ کو “بدنام قاتل”، “منشیات فروش گینگ کا رکن”اور “قتل کیس میں بھگوڑا”
قرار دیا تھا.
مقدمہ کی ڈھائی برس کی کارروائی کے دوران چینل نے عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور نہ
دفاعی جواب جمع کرایا.
عدالتی فیصلے کے بعد چینل نے ہرجانے کی ادائیگی کیلئے عدالت سے باہر تصفیہ کرنے کی کوشش بھی کی.
ناصر بٹ اس سے قبل اے آر وائی کے خلاف بھی ایسے ہی جھوٹے الزامات لگانے پر ہتک عزت کا
کیس جیت چکے ہیں.