ملک میں خونی بارشوں کی تباہ کاریاں اور میڈیا کی ناقص کارکردگی

شیئر کریں:

تحریر آفتاب مہمند

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کیا پاکستان کا اس وقت قومی مسئلہ صرف
شہباز گل ہی رہ گیا ہے؟ ملک کا سب سے اہم ایشو صرف اور صرف ماہ جون سے جاری بارشیں اور ان سے ہونے والی
تباہ کاریاں ہیں۔

جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر نے حالیہ دو، تین ٹاک شوز میں ملک بھر میں جاری بارشوں کے نتیجے میں سیلاب
سے جگہ جگہ ہونیوالی تباہی کی بھرپور طریقے سے عکاسی کی اور اس سلسلے میں تمام ایشوز اجاگر کئے جو ایک
اچھی بات ہے۔ لیکن زیادہ بہتر ہوتا کہ میر صاحب روزانہ کی بنیاد پر سیلاب سے متاثر علاقوں میں جا کر اپنے زیادہ تر
ٹاک شوز سیلاب زدگان کے ساتھ ریکارڈ کرواتے جیسا کہ چاروں صوبے اور وفاق کی اکائیاں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان
اس وقت شدید بارشوں اور سیلابوں کی لپیٹ میں ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک حالیہ ڈیٹا، امدادی کارروائیوں اور دیگر اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو رواں برس مون سون کا شکار سب سے زیادہ بلوچستان رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقے بھی بارش اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے وسط سے لے کر اب تک ملک بھر میں 820 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ان بارشوں اور سیلاب سے ایک ہزار 315 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں سب سے زیادہ 231 اموات کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ بلوچستان میں 225، خیبر پختوخوا میں 166، پنجاب میں 151، آزاد کشمیر میں 37، گلگت بلتستان میں 9 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔

جاں بحق ہونے والوں میں 338 مرد، 178 خواتین جبکہ 304 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں مردوں کی تعداد 654، خواتین کی تعداد 331 جبکہ بچوں کی تعداد 330 ہے۔ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 5 لاکھ 4 ہزار 321 مویشی سیلاب کی نذر ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ 5 لاکھ مویشی بلوچستان کے ہیں۔ گھروں، سڑکوں اور عمارتوں کی بات کی جائے تو 3 لاکھ 19 ہزار 450 عمارتیں متاثر ہوئی ہیں جن میں 95 ہزار 350 مکمل طور پر تباہ جبکہ 2 لاکھ 24 ہزار 100 جزوی متاثر ہوئی ہیں۔

سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے 2 ہزار 135 کلومیٹر، بلوچستان میں 710 کلومیٹر، پنجاب میں 33 کلومیٹر جبکہ خیبر پختونخوا میں 7 کلومیٹر سڑک بھی سیلاب بہا کر لے گیا ہے۔ آبی گزرگاہوں پر تعمیر 129 پل اور 50 دکانیں بھی سیلاب بہا لے گیا۔ سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے نقصانات کی بات کی جائے تو وہ نظر آنے والی تباہی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ 89 ہزار 455 افراد سیلاب اور بارشوں کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں گھروں کے مسمار ہونے، رابطہ سڑکوں کے بہہ جانے ، چھتیں گرنے سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں۔

ملک بھر کے 116 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ بلوچستان کے 34 اضلاع شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع، سندھ کے 17، پنجاب کے 16، آزاد کشمیر کے 10 جبکہ گلگت بلتستان کے 6 اضلاع شامل ہیں۔
بعض علاقوں میں سانس کی بیماری پھوٹ پڑی ہے جس کی اصل وجہ سیلاب اور بارشیں ہیں۔ کئی جگہوں پر لوگ نمونیا، ملیریا، ڈینگی، لشمینیا، جلد کی بیماریوں اور ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان بیماریوں کے فوری تدارک کیلئے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگا دیئے گئے ہیں۔ دیکھا جائے تو رابطہ سڑکیں، آبپاشی کا نظام، بجلی کا نظام، مواصلاتی نظام، پل تباہ ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

ملک بھر میں حکومت کی جانب سے مختلف ریسکیو کیمپ بھی قائم کئے گئے ہیں جن میں اس وقت 56 ہزار 681 افراد موجود ہیں۔ سب سے زیادہ سندھ میں 45 ہزار 207 لوگ ریلیف کیمپ میں موجود ہیں۔ بلوچستان میں 7 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار افراد کیمپوں میں ہیں۔

تباہ کاریوں کی صورتحال ہے یقینا مزکورہ اعداد وشمار تسلسل کیساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ متعدد غیر سرکاری اور غیر ملکی ادارے بھی ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی جانب سے متاثرین کو ٹینٹ، کمبل، مچھر دانیاں، فوڈ پیکجز, پلاسٹک میٹ یعنی دریاں، کچن سیٹ، ہائی جین کٹ چارپائیاں، خوراک، طبی سہولیات جیسی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح ملک
کے کونے کونے میں ریلیف کیمپ بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں مخیر حضرات متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے میدان میں موجود ہیں۔

وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کیلئے 37 ارب روپے کا پیکج دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومتیں بھی ریلیف پیکجز کیساتھ ساتھ امدادی کاموں پر توجہ دیئے ہوئے ییں۔ زمینی حقائق کے مطابق یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت ملک میں فلاحی کاموں میں سب سے آگے این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان ہی ہیں۔ خود وزیر اعظم این ڈی ایم اے سربراہ جنرل اختر نواز کی خدمات کو بار بار سراہتے رہے ہیں۔ افواج پاکستان تو اس قدر آگے ہیں کہ کور کمانڈر بلوچستان جنرل سرفراز علی جیسے آفیسرز کی قربانی بھی دے چکی جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

جہاں تک سیلاب زدگان کی بحالی و امدادی کارروائیوں کا تعلق ہے بنیادی ذمہ داری تو وفاق خصوصا صوبوں ہی کی ہے لیکن اگر ملک کے مین میڈیا پر نہیں تو سوشل میڈیا پر صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ زیادہ نقصانات کے باعث ضروریات بھی زیادہ ہیں۔

لیکن اس ضمن میں ریاست کا چوتھا ستون کہلانے والے “میڈیا” کا کردار بہت ہی افسوسناک ہے۔ خصوصا ملکی ٹی وی چینلز میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کیا زلزلہ کیا سیلاب کیا دہشت گردی پاکستان کے ٹی وی سے منسلک اینکرز صحافی آپ کو فیلڈ میں نظر آتے تھے لیکن آج لگ بھگ سارے یا تو ٹوئٹر پر یا رات کو نیوز چینل یا
یوٹیوب پر شہباز گل کے جسم کے نازک حصوں پر تشدد کی تردید یا تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ اس مثبت رپورٹنگ کے کنٹوپ کا نتیجہ ہے جو شاہ دولہ کے چوہوں کی طرح ان کو پہنایا گیا تھا۔ اب ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ عوام بھی اسی رو میں بہہ کر یہی دیکھ رہے ہیں اور داد دے رہے ہیں۔ یقین مانیئے سیلاب سے متاثرہ یہ لاکھوں عوام بھی اسی بھیڑ کا حصہ رہے ہوں گے جو ان اینکرز کے پیچھے چلتی ہے۔
انہوں نے بھی نواز شریف، زرداری چور چور اور عمران خان کے ریاست مدینہ پر بننے والی وڈیوز کو لائیک، شیئر اور ٹوئیٹ کیا ہو گا۔ آج جب ان پر آن پڑی ہے تو یہ چلا رہے ہیں۔ یہی تو ٹی وی کا کمال ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ بیچنے والے اپنا وہی چورن بیچ رہے ہیں جو کبھی آپ خریدتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب خریدار کوئی اور ہے اور آپ کو تکلیف ہے۔ دوسری جانب سیٹھ میڈیا عادی ہو چکا ہے کہ جب تک سیٹھ نہ بولے ہلنا بھی نہیں ہے۔

پہلے ہدایات آتی تھیں خبردار اپوزیشن کی خبر نہ دکھائی جائے۔ ان کے لوگوں کو نہ بلایا جائے۔ عمران خان کو ایک مسیحا ایک آقا کے طور پر دکھایا جائے اور سمجھا جائے۔ عمران تو عمران اس کی پارٹی کا کارکن بھی فون کرے تو مان لینا چاہیئے۔ ان کے جلسوں کو تاریخی جلسے کے طور پر دکھایا جائے۔ وہ تو چھوڑیں اگر کوئی خواجہ سرا تیاری کرکے آنے کا ارادہ کرے تو اس کو گھر سے تیار ہوکر جلسے میں جاتا ہوا دکھایا جائے۔ بچیوں کی عمران خان کو شادی کی آفر کرتے منتیں کرکے گڑگڑاتے دکھایا جائے۔ گویا عمران خان نہ ہوا کوئی فلم سٹار ہو۔ حقیقت میں تو ایسا ہی تھا۔ اس کو سٹار کی طرح پیش کیا گیا اور اب اس کے فینز کی گالیوں سے ریاست پریشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیکر کا پودا بو کر کون سیب کی توقع نہ صرف کررہا تھا بلکہ ہمیں بتا بھی رہا تھا کہ دیکھنا نوے دن میں اس پر سیب اگیں گے۔ یہ سارے اینکرز بھی فینز بن گئے تھے۔ اب ان کو خواب سے جھٹکے دے کر جگایا جا رہا ہے اور وہ رو دھو کر چیخ چلا کر واپس سونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ دونوں جیو نیوز کے ایک پروگرام میں شریک اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاوہ ملک میں اور بھی کئی ایشوز ہیں۔ تو بی بی سے اب یہ سوال بنتا ہے کہ فیلڈ میں جا کر کتنے ٹاک شوز سیلاب زدگان ہر ریکارڈ کئے ہیں؟ یہ صرف ایک یا دو اینکرز کی بات نہیں پورے الیکٹرانک میڈیا اور اینکرز کا یہی حال ہے۔
ملکی میڈیا نمائندے تو اپنی طرف سے بھرپور کوریج کر رہے ہیں۔

ایسا بھی دکھائی دے رہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں “جرنلسٹ سیو موومنٹ” نامی صحافیوں کی تنظیم رہورٹنگ کیساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی اتر آئی اور سیلاب زدگان کی بھرپور خدمت میں مصروف عمل ہے لیکن کاش مین میڈیا بھی ایسا ہوتا۔ اینکر حضرات اگر روز اول سے ملکی ناکارہ سیاست جیسے موضوعات سے ہٹ کر سیلابوں پر بات کرتے تو حکومت بھی بروقت کچھ کر لیتی جیساکہ ہماری حکومتیں تو بہت دیر سے جاگ جاتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ مخیر حضرات اور بین الاقوامی ڈونرز کی توجہ بھی یہاں دلاتے جیسا کہ نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا موازنہ کرنے کی صورت میں امدادی کارروائیاں اور ریلیف و امداد کی فراہمی بہت ہی کم ہے۔ چلو دیر آید درست آید سیلابوں، سیلابی ریلوں، طغیانی اور بارشوں کا سلسلہ ابھی رکا نہیں۔ بارشوں کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے یہ حضرات ابھی تو نکلیں تاکہ قوم کا حق ادا کیا جاسکے۔


شیئر کریں: