ملک میں انتخابات کی ہلچل

انتخابات2024 کے لاڈلے

سیدفخرکاکاخیل
جہاں ملک بھر میں انتخابات کے حوالہ سے ابہام رہا وہاں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا مدعا نمٹا کر صورت حال میں خاصی
ہلچل پیدا کردی ہے۔ جہاں پہلے کچھ لوگ کنارے بیٹھ کر سوچ رہے تھے کہ انتخابات گویا نہیں ہوں گے وہ بھی اب الیکشن لڑنے
کے لیئے پر تول رہے ہیں۔

سیاستدان اور عدلیہ کب قابل تقلید ہوں گی؟

دلیل کے ساتھ مقامی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف کا وطن واپس آنا اور ان پر مقدمات کا خاتمہ
اس بات کا اعلان تھا کہ الیکشن ہونے لگے ہیں۔ ان کے لیئے جس طرح پچ تیار کی جارہی ہے وہ بھی واضح نظر آ رہی ہے۔ گو کہ
اس پر تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور خیبرپختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی جیسی جماعتوں کے اعتراضات ہیں کہ یہ “لیول پلینگ فیلڈ
” والے مناظر نہیں ہیں۔ لیکن پھر بھی مسلم لیگ ن کے قائد بلوچستان گئے اور الیکٹیبلز سے اپنی جھولی بھر لی ہے۔
بلوچستان میں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلم لیگ اور جمیعت علماء اسلام ف اکثریت سے کامیاب ہو پائیں گی۔ جہاں تک خیبرپختونخواہ
کا سوال ہے تو سن گن رکھنے والے کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے سابق رہنما و سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ
پرویزخٹک کی نوزائیدہ جماعت پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے پلڑے میں سوغات ڈالی جا رہی ہے۔ یہ نہیں بلکہ ن لیگ
کے لیئے بھی خوشخبریوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سیاست گھم ہو گئی؟

یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف سے عوامی نیشنل پارٹی میں سوات سے تعلق رکھنے والی سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ مسرت احمدزیب
بھی ن لیگ پدھار چکی ہیں۔ مالاکنڈ میں اگر تحریک انصاف کا ووٹر نہیں نکلا تو اس کا فائدہ دیگر جماعتوں کو ہو گا۔ اڑتے اڑتے خبریں یہ
بھی آئیں کہ جمعیت علماء اسلام سے مسلسل استفسار کیا جا رہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کے ساتھ انتخابی دوستی کا ہاتھ بڑھا
دی لیکن واقفان حال کا ماننا ہے کہ ابھی تک جمیعت کی قیادت اپنی بات پر اڑی ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ فی الوقت
تو ایک قدم بھی آگے جانے سے قاصر ہے۔
وادی پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی نے تو کافی حد تک امیدوار واضح کر رکھے ہیں۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی اپنے ٹکٹوں
کی تقسیم کا مرحلہ طے کر لیا ہے۔ حال ہی میں عوامی نیشنل پارٹی این اے 31 سے امیدوار پیرہارون شاہ بھی متحرک ہو گئے ہیں۔
اس طرح شہر میں پی کے 83 پر قومی وطن پارٹی کے نامزد امیدوار سیدفیاض علی شاہ کے بل بورڈز لگ چکے ہیں۔ پشاور کے معروف
سیاسی وکاروباری اہل سادات خاندان سے تعلق رکھنے کے علاوہ بھی فیاض علی شاہ عرصہ سے اپنے حلقے میں فلاحی کاموں میں
سرگرم رہے ہیں اور ذاتی طور پر شہر میں بالعموم اور اپنے حلقہ میں بالخصوص ایک حلقہ اثر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں سے وہ انتخابی
لغت کے مطابق “حلقہ سازی” کر رہے تھے۔

دوسری جانب حکومتی سطح پر چونکہ جمیعت علماء اسلام کا اثرونفوذ موجود ہے اس لیئے وہ بھی بھرپور طریقے سے گٹھ جوڑ میں مصروف ہیں۔
البتہ ابھی تک وادی پشاور کے اضلاع میں ان کے امیدواروں کے حوالہ سے مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ مولانا صاحب کا شمار
ان قائدین میں ہوتا ہے جو آنے والے انتخابات کے حوالہ سے گومگو کیفیت کا شکار رہے۔ لیکن اب ان کی سرگرمیاں آہستہ آہستہ زور
پکڑتی جا رہی ہیں۔ گو کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ان کو امن وامان کے حوالہ تحفظات درپیش ہیں لیکن سیکیورٹی فورسز کی جانب سے
خصوصاً جنوبی اضلاع میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کی گئیں جس سے کافی حد تک ان تحفظات کا تدارک کیا گیا
ہے۔ تاہم افغان طالبان کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نرم رویہ خود مولانا فضل الرحمٰن کی انتخابی مہم کو متاثر کر
سکتا ہے۔

حال ہی میں سندھ میں بھی جمیعت علماء اسلام نے تاریخ ساز اجتماعات کرکے پیپلزپارٹی تک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے دو وجوہات
ہیں ایک تو سندھ میں طویل عرصہ تک پیپلزپارٹی کی حکمرانی رہی ہے۔ گو کہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں بہت کام کیئے ہیں۔ لیکن
ایک عرصہ حکمرانی اور دوسری بات یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں سے جمیعت علماء اسلام نے سندھ کی مقامی سیاست میں سرگرمیاں
تیز کر دی ہیں۔ یہاں تک کہ سندھ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی ان کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔
اس کے علاوہ عالم دیوبند عبیداللہ سندھی کے نظریات سندھی قوم پرست ووٹر کو اپنی طرف کھنچتے ہیں۔ اس لیئے اندرون سندھ سفر کے
دوران آپ کو جمیعت علماء اسلام کا اثرونفوذ بڑھتا ہوا صاف نظر آتا ہے۔

بوٹا گالاں کیوں نہ کڈھے؟

جہاں تک نگران حکومت کا تعلق ہے تو اتنی طویل نگران حکومت نے کئی انتظامی مسائل کو جنم دیا ہے۔ کیونکہ نگران حکومت کے
پاس کئی اہم امور کا مینڈیٹ نہیں ہوتا جس میں ایک بھرتی کا عمل بھی ہوتا ہے اس لیئے کئی اہم عہدوں پر اور کئی شعبوں میں بھرتیاں
تاحال معطل ہیں جس کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
صحت کے حوالہ سے جن خدشات کا اظہار تحریک انصاف دور میں کیا جاتا رہا وہ سر پر آ چکے ہیں۔ اکثریتی اسپتالوں میں فنڈز نا ہونے کے
برابر ہیں۔ اسپتالوں کی خودمختاری کی شکل میں اسپتالوں کو مافیاز اور نجی کمپنیوں کی طرح چلایاگیا۔ جس بات کا ڈھنڈورا پیٹا گیا وہ دس
سالوں میں بھی نا ہو پایا۔
اسپتالوں میں ایم ٹی آئی نظام کو اس وجہ سے نافذ کیا گیا تھا تاکہ اسپتال اقتصادی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور عوام کو بہترین
سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسپتال آج بھی فنڈز کے لیئے صوبائی وزارت خزانہ کی طرف دیکھ رہے ہیں جو کہ لوٹ مار کا شکار ہو کر خالی پڑا
ہے۔ دوسری جانب صحت کارڈ کے نام پر وزارت صحت کی ٹھیکیدار مافیا نے دو دو کمروں کے نجی اسپتال بنا کر وہ لوٹ مار کی کہ
خدا کی پناہ اور اب نگران حکومت کو یہ سہولیات ختم کرکے صوبے کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تعلیمی بورڈز کی فیسوں اور جامعات کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کرکے تنخواہوں کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ
کے زیادہ تر اداروں میں آج بھی پرانا سیٹ اپ موجود ہے جنہوں نے بظاہر تو اپنا قبلہ بدل دیا ہے لیکن بات چیت کے دوران تحریک
انصاف اور خصوصاً عمران خان کے لیئےان کی محبت آج بھی جاگ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کو سول بیوروکریسی کے حوالہ سے
شدید مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے.