ملک ریاض اور بل گیٹس میں کیا فرق ہے؟

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور بل گیٹس کے درمیان کیا فرق ہے؟
خود اعتمادی کیسے پیدا کی جائے؟
آج ایک نئے سلسلے کی شروعات ہورہی ہے۔ ڈسکور یور سیلف کے پہلے سیشن کا ٹاپک ہے کہ How to Build Self Confidence?
آج کے سیشن میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ سیلف کانفیڈنس اور سیلف اسٹیم میں کیا فرق ہے؟
جب انسان خود کو مکمل طور پر accept کر لیتا ہے ،جب انسان اپنی worth جانتا ہے ۔اور سیلف کانفیڈنس یہ ہے کہ ہمارے اندر یہ کانفیڈنس ہوتا ہے کہ ہم جو کام کررہے ہیں ،وہ کام ہم کرسکتے ہیں .

خود کو سمجھنے کی ،خود کو دیکھنے کی نظر ،کا نام سیلف اسٹیم ہے ۔اور کانفیڈنس کا سادہ سا مطلب ہے کہ میں یہ کام کرسکتا ہوں ،مجھ میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہے

کوئی آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ یہ کام کر لو گے ،آپ اسے کہتے ہو کہ ہاں مجھے یہ کام آتا ہے اور مجھے خود پر مکمل یقین ہے کہ میں یہ کام کرسکتا ہوں

ایک کام ہے وہ آپ کو آتا ہی نہیں ،آپ نے وہ کام کبھی کیا ہی نہیں ،کوئی آپ سے کہتا ہے یہ کام کر لو گے ،آپ کہتے ہو ،میں کر لوں گا ،اس کو کانفیڈنس نہیں کہتے ،اس کو اوور کانفیڈنس کہتے ہیں اور جو بھی اوور کانفیڈنٹ ہوتے ہیں ،وہ ناکام ضرور ہوتے ہیں ،کیوں ناکام ہوتے ہیں اس لئے کہ بغیر سوچے سمجھے جس کام کو جانتے نہیں ،وہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ اوورکانفیڈنس بھی انسان کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے

کچھ لوگ بڑے کانفیڈنٹ لگتے ہیں ،وہ ہوتے نہیں ہیں ،وہ ایسے کہ آپ نے کانفیڈنس سے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ،اس کے بعد آپ نے کہا میرے جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں ،اس کے بعد کسی اور کام میں ہاتھ ڈالا اور ناکام ہوگئے اور پھر اس ناکامی کو لیکر بیٹھ گئے ،یہ کیا ہوگیا ،یہ کیوں ہوگیا َ کیسے سب کچھ برباد ہوگیا؟
ایسا کانفیڈنس بھی انسان میں نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ultimately ایسا کانفیڈنس بھی انسان کو ناکامی کی طرف لیجاتا ہے

کانفیڈنس وہ ہے جو کبھی نیچے نہیں گراتا ،ہمیشہ اس کا گراف بڑھتا ہی جاتا ہے ،ایسے کانفیڈنس کو unshakeable confidence کہا جاتا ہے اور یہی کانفیڈنس کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے

کامیاب انسان وہ ہیں جو زندگی کو ایک کھیل کی طرح دیکھتے ہیں ،جنگ کی طرح نہیں دیکھتے ،مقابلے یا ریس کی طرح نہیں دیکھتے ،جو انسان زندگی کو کھیل کی طرح دیکھتے ہیں انہی لوگوں میں کانفیڈنس بھی ہوتا ہے اور سیلف اسٹیم بھی ہوتی ہے ۔ زندگی کو جو ریس کی طرح سمجھتے ہیں ان میں کانفیڈنس اور سیلف اسٹیم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی

Life is a game
Do not be too serious about it

کبھی سوچا کھیل میں ہم کیا کرتے ہیں ،جب ہم کرکٹ کھیلتے ہیں ،تو کیا کرتے ہیں ،جب ہم فٹبال کھیلتے ہیں تو کیا کرتے ہیں ،کچھ رولز ہیں جن کو فالو کرتے ہیں ۔جو انسان ان رولز کو فالو کرتا ہے اور کسی قسم کی ٹینشن نہیں لیتا وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو کھیل کے رولز کو فالو نہیں کرتے ،کھیل کو صرف جیتنا چاہتے ہیں ،وہ ultimately ناکام ہی ہوتے ہیں ،کھیل میں رولز کی دھجیاں اڑا دی ،کامیاب ہوگئے ،ٹھیک ہے آپ میں کانفیڈنس ہے ،لیکن سیلف اسٹیم نام کی کوئی چیز ایسے انسان میں نہیں ہوتی جو رولز کو فالو نہیں کرتے

اسی کھلاڑی کی عزت ہوتی ہے جو دو نمبری کرکے نہیں جیتتا ،اسی کھلاڑی کی عزت ہوتی ہے جو رولز کو فالو کرکے کھیل کو جیتتا ہے ،زندگی کھیل ہے ، اس کھیل کے رولز کو فالو کرتے ہوئے آگے بڑھو گے تو آپ کی عزت ہوگی ،اگر دو نمبری کرکے زندگی کے کھیل میں آگے بڑھو گے تو شاید کامیابی تو مل جائے گی لیکن عزت نہیں ہوگی ،سیلف اسٹیم نہیں ہوگی ،لوگ آپ کو کھپلے باز ،اور دو نمبر انسان ہی کہیں گے
عزت اس کی ہوتی ہے جو ایماندار ہوتا ہے ،خود کی نظر میں بھی اور دنیا کی نظر میں بھی ،جو انسان بے ایمان ہے وہ خود کی نظر میں بھی بے ایمان ہوگا اور دنیا کی نگاہ میں بھی بے ایمان ہوگا ۔

کچھ بھی ہوجائے ناکام ہوتے ہو ہوجاو ،چیٹنگ نہیں کرنی ،ہمیشہ ایمانداری سے آگے بڑھنا ہے ،اسے کہتے ہیں سیلف اسٹیم

دنیا کے تمام انسانوں کی زندگی دیکھ لیں ،ان میں کیا ہوتا ہے ،وہ پیسفل ہوتے ہیں ،ان کی طبعیت میں ٹھہراو ہوتا ہے ،وہ خوش رہنے والا ہوتا ہے ،اس میں ہمدردی اور انسانیت ہوتی ہے

Self esteem is more important than anything else

آپ کے والدین کہتے ہیں بیٹا آپ کو بزنس کے لئے پیسے دیتے ہیں ،بزنس کر لو گے ،آپ بزنس کی الف ب سے بھی واقف نہیں اور کہہ دیتے ہو ،ہاں جی بزنس کر لوں گا اور بزنس کو کامیاب بھی کردوں گا ،یہ کانفیڈنس نہیں ہے ،یہ اوور کانفیڈنس ہے اور اسی کی وجہ سے ہم ناکا ہوتے ہیں اور پھر اسی ناکامی کی وجہ سے فریسٹریشن اور ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور اینڈ رزلٹ کیا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ مایوس ہوکر آخر میں سوسائیڈ کر لیتے ہیں

والدین کو یہ بھی تو کہا جاسکتا تھا کہ مجھے بزنس کے بارے میں زیادہ علم نہیں ،پہلے میں نالج ھاصل کرتا ہوں کہ بزنس کیسے کیا جاتا ہے ،سیکھنے کے بعد بزنس کرسکتا ہوں اور کامیاب ہوسکتا ہوں ،اس کا نام ہے کانفیڈنس

کوئی بھی کام کرنا ہے تو اس کے لئے سب سے اہم چیز کیا ہے پیشن

اب پیشن کیا ہے ؟ بزنس آپ کو پسند نہیں ہے ،لیکن بزنس سے جو پیسہ آئے گا ،وہ پسند ہے ،تو اسے پیشن نہیں کہا جاسکتا ۔ بزنس آپ کو پسند ہے ،آپ پییسوں سے زیادہ بزنس کے کھیل کو انجوائے کرنا چاہتے ہو کہ دیکھتا ہوں اس کا آوٹ کم کیا آتا ہے تو اس کا مطلب ہے بزنس کا آپ میں پیشن ہے ،اس پیشن سے کیا ہوگا آپ کو بزنس کرنے میں مزہ آئے گا ،پیسہ تو آئے گا ہی آئے گا لیکن بزنس کا کھیل بھی آپ کو پسند ہے اس کھیل کا بھی آپ کو مزہ آئے گا

ہم کیسے جیتے ہیں ،ہمیں نوکری سے پیار نہیں ہوتا ،کام سے پیار نہیں ہوتا ،ہمین مہینے کے اینڈ میں جو سیلری ملتی ہے ،اس سے پیار ہوتا ہے ،ہمیں کرسی سے پیار ہے ،کرسی پر بیٹھ کر جو کام کرنا ہے اس سے نفرت ہے ۔یہ ہے ہماری زندگی ،اسی وجہ سے زندگی کے کھیل کے ہم بے ایمان اور گھپلے باز کھلاڑی ہیں

ہمیں کامیاب ہونا ہے تو جنونی ہونا ہوگا ،کوئی کام شروع کردیا تو اب پیچھے نہیں ہٹنا ،کامیاب ہونا ہی ہونا ہے ،اسے کہتے ہیں پیشن ،یہ پیشن نہیں ہوتا کہ کام شروع تو کیا پیشن کے ساتھ ،لیکن جونہی اس کام کو کرنا شروع کردیا ،بوریت ہونے لگی ،اور درمیان میں وہ کام چھوڑ دیا

جو بھی پیشن آپ کا ہو ،اس میں دیکھو کہاں تک جاسکتے ہو ،کہاں تک خود کو ڈسکور کرسکتے ہو ،اسی کا نام خود کو ڈسکور کرنا ہے ۔

جس انسان میں خود کو ڈسکور کرنے کا جنون ہوتا ہے ،ایسے انسان کا اعتماد اور سیلف اسٹیم کمال ہوتی ہے ۔ ایسے انسان کو ناکامی ہو ہی نہیں سکتی ،آج نہیں تو کل ،کل نہیں تو پرسوں ، کامیابی ملے گی ہی ملے گی

زندگی کھیل ہے اور اس کھیل کے جتنے بھی پہلوو ہیں ان سب کو دیکھنا ہے ،سمجھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے ،اس طرح انسان زندگی کا استاد بن جاتا ہے

زندگی کے بہت سارے پہلوو ہیں ،ہیلتھ ہے ،ویلتھ ہے ،ریلشن شپس ہیں ۔بہت کچھ ہے ،ان سب aspects کو دیکھنا ہے ،سمجھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے ،

زندگی کے سارے aspects کو سمجھنا ہے ،پھر ایسے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں انسان زندگی کے بارے میں بہت passionate ہے

سیلف کانفیڈنس کے لئے پیشن کے بعد جو اہم چیز ہے اسے کہتے ہیں پریکٹس ،زندگی سے محبت کرنے والا کھلاڑی جیت یا ہار کو نہیں دیکھتا ،وہ یہ دیکھتا ہے کہ بزنس میری رگوں میں ہے ،بزنس کی بہت پریکٹس ہے ،کوئی بات نہیں آج ناکامی ہوگئی ،فنانشئیل لاس ہوگیا ،لیکن لانگ ٹرم میں مجھے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔
This is called confidence

آپ کو اگر معلوم ہے کہ بزنس کا میں اچھا کھلاڑی ہوں تو ناکامی سے آپ نہیں گھبرائیں گے ۔

کامیاب ملک ریاض نہیں ،وہ تو گھپلوں سے آگے بڑھا ہے ،خود کہتا ہے فائل کے نیچے پہیئے لگا دیتا ہوں ،کامیاب بل گیٹس ہے جو ایماندار بھی ہے ،بزنس کے رولز کو بھی فالو کرتا ہے ،دنیا بھی اسے ایماندار کہتی ہے اور وہ خود بھی جانتا ہے کہ وہ ایماندار ہے
ملک ریاض اور بل گیٹ میں یہی فرق ہے ؟

ہم کس کو فالو کررہے ہیں ملک ریاض کو ؟ اور بل گیٹ نے کیسے کامیابی حاصل کی ،اس کو فالو نہیں کررہے ہیں ،کیوں ،ایسا نہیں کررہے کہ بل گیٹ بزنس کے رولز کو ایمانداری سے فالو کرتا ہے ،اور ملک ریاض رولز کو violate کرکے گھپلے کرکے آگے بڑھ رہا ہے ،ہم جانتے ہیں حققی کامیاب بل گیٹ ہے ،لیکن ہم ملک ریاض کی طرف بھاگتے ہیں ؟

بزنس کرنا ہے تو یہ آپ کی فریڈم ہے کہ بل گیٹ سے بھی سیکھ سکھتے ہیں ،چاہیں تو ملک ریاض سے بھی سیکھ سکتے ہیں

بزنس کرنا ہے تو بزنس کی بیسک نالج تو لینی پڑے گی ،وہ نالج بل گیٹ سے بھی لے سکتے ہو ،ملک ریاض بھی لے سکتے ہو ،ہم کہاں سے بیسک نالج لیتے ہیں جو یہ کہہ رہا ہے کہ فائل کے نیچے پہیے لگا دیتا ہوں ،جو رولز کو فالو کررہا ہے ،جو ایماندار ہے ،جس کا نام بل گیٹ وہ ہے تو ہمارے لئے عظیم شخصیت لیکن اسے فالو نہیں کرنا ،یہ ہے ہمارا پرابلم

بزنس میں آگے بڑھنا ہے تو بل گیٹ کی زندگی سے سیکھو ،اس کی بزنس ایجوکیشن سے سیکھو ۔
دیکھ لو بل گیٹ کیسے بولتا ہے ،کیسے اس کی زندگی ہے ،کیسے اس کی سوچ دوسروں سے مختلف ہے ،کیسے وہ شاندار انسان ہے ،ملک ریاض کے لائف سٹائل کو بھی دیکھ لو ،کیسے اس کے ایکشن ہیں ،کیسے اس کی سوچ ہے ،کیا وہ کامیاب ہے بھی یا نہیں ،کھربوں روپے تو ہیں لیکن کیا اس کی زندگی شاندار ہے ؟

آپ میں اگر دم ہے ،پیشن ہے ،ایمانداری ہے ،سیلف اسٹیم ہے ،زندگی کے اچھے کھلاڑی ہو ،رولز کو فالو کر رہے ہو ،پھر بھی آپ کا راستہ روکا جارہا ہے ،تو کب تک راستہ روکنے والے راستہ روکیں گے ۔ سورج کی روشنی کو زمین پر آنے سے بادل کب تک روک سکتے ہیں ،کبھی نہ کبھی تو بادلوں کو آسمان سے ہٹنا ہی پڑتا ہے
Life is not a problem to be solved,life is a game to be played


شیئر کریں: