مظفرآباد میں کورونا کیسز زیادہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر ابو القاسم حیدری

رواں سال مارچ کے بعد سے ملک بھر میں کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔
بالآخر صوبائی اور وفاقی حکومتوں سمیت گلگت بلتستان اور آزادجموں وکشمیر کی حکومت
کو بھی لاک ڈاون لگانا پڑے۔

آزادکشمیر میں کورونا پھر سر اٹھانے لگا

کورونا وباء کے ابتدائی پھیلاو سے اب تک حکومت آزادکشمیر کی سندھ حکومت کی طرح سخت
پالیسی رہی اور اس وقت تک سب سے زیادہ مدت تک لاک ڈاونز بشمول اسمارٹ لاک ڈاونز
آزادکشمیر میں لگائے گئے۔

گرمیوں میں کورونا کیسز رہے

موسم گرما کے دوران جب گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا تو عوام میں نزلہ زکام کی بیماری کم ہوئی
اور نتیجتاً کورونا کیسز میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں نظر آئی۔

مظفرآباد شہر جو آزادکشمیر کا دارالحکومت ہے یہاں شروع میں کورونا کیسز کی تعداد کافی کم رہی
مگر اس کے باوجود بھی ابتدائی دنوں میں یہاں لاک ڈاونز لگائے گئے اور ریاست بھر کے انٹری پوائنٹس
پر سخت اسکریننگ اور غیر ریاستی افراد جو سیاحت، کاروبار یا اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے غرض
سے آرہے تھے ان کے آنے پر پابندی رہی حتٰی کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔

جب کورونا کے کیسز کم ہوئے تو حکومت آزادکشمیر نے اسمارٹ لاک ڈاون سمیت ہوم آئسولیشن کی
بھی اجازت دیدی جس کے بعد بہت سے لوگ صحت کی ناکافی سہولیات ہونے کی وجہ سے ہوم آئسولیشن
یعنی گھر میں ہی قرنطینہ ہونے کو ترجیح دینے لگے۔

ٹیسٹ سے قبل آئسولیشن کا خاتمہ وجہ بنا؟

گزشتہ دو ماہ میں جہاں ریاستی دارالحکومت میں کورونا کیسز کی تعداد میں غیر متوقع اضافہ ہوا
وہی اس کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ ہوم آئسولیشن میں رہنے والے وہ افراد بھی ہیں جو ایس او پیز پر
عمل نہیں کرتے اور دوبارہ کورونا کے منفی ٹیسٹ آنے سے قبل ہی آئسولیشن ختم کردیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح سب سے زیادہ مظفرآباد میں 19 فیصد ہے۔

حکومت آزادکشمیر کی جانب سے ایک بار پھر دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاون لگا دیا گیا ہے جس
کے بعد معاشی طور پر کئی لوگ پھر سے تنگ دستی کا شکار ہوں گے۔

وزیر اعظم کا کام پالیسی بنانا ہے یا ماسک تقسیم کرنا؟

دوسری جانب وزیراعظم آزادکشمیر اس حوالے سے کوئی اقدامات کرنے کے بجائے شہریوں کو ماسک
تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں (جو اُن کے فرائض میں شامل نہیں اور شہری اسے سستی شہرت سے
تشبیع دے رہے ہیں۔)

ڈاؤ یونی ورسٹی نے کورونا وائرس دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں کم آبادی اور محدود علاقہ ہونے کے باوجود کورونا کے پھیلاو
کی بڑی وجہ محکمہ صحت سمیت دیگر محکموں کا اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی ہے۔ 40 لاکھ کی آبادی
پر 1 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ہونے کے باوجود ریاست میں گُڈ گورننس کے مسائل حکومتی
کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہیں کیونکہ 2016 میں بننے والی مسلم لیگ ن کی حکومت کے منشور
میں گُڈ گورننس اولین ترجیح تھی جس پر اب سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حکومت کے پاس ریکارڈ بڑی کابینہ ہونے کے باوجود بیشتر
وزراء اپنے دیے گئے محکموں کے ساتھ عدم دلچسپی اور سیاسی بھرتیاں بھی اس کا سبب ہیں۔


شیئر کریں: