مصباح کسے زمہ دار ٹھرائیں گے؟

شیئر کریں:

تحریر کاشان سید

نئی منیجمنٹ، نیا کوچنگ اسٹاف اور تینوں فارمیٹ میں کپتان کی تبدیلیاں،
نئے ٹیلنٹ پر انحصار مگر نتائج صفر جمع صفر ہی رہے۔ ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر
مصباح الحق کے فارمولے قومی کرکٹ ٹیم کو لے ڈوبے۔

26 اکتوبر کو اڑان بھرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم دورے آسٹریلیا میں ایک بھی
فتح حاصل نہ کرسکی۔ شاہینوں نے تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئینٹی سیریز کھیلی۔

خوش قسمتی سے پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا۔
اگلے دو میچوں میں مہمان ٹیم نے بابراعظم الیون کو جیت کے قریب بھی آنے نہیں دیا۔
آسٹریلیا نے جیت کے ردھم کو برقرار رکھتے ہوئے کلین سوئپ کیا،بابر اعظم کی قیادت
میں ٹی 20 سیریزمیں بری طرف شکست کے بعد شاہینوں نے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی
سے امیدیں لگالیں۔

مگر ماضی میں آسٹریلیا کے دوروں اور وہاں کی کنڈیشن کو جاننے کے باوجود غلطیوں
سے سبق نا سیکھا گیا۔ٹیسٹ سیریز میں شاہینوں کو میزبان ٹیم نےوائٹ واش کیا۔
سونے پر سہاگہ دونوں ٹیسٹ میچز میں شاہینوں کو اننگزسے شکست کا مزہ چکنا پڑا۔

https://www.khabarwalay.com/2019/12/02/12395/

آسڑیلیا روانگی سے قبل ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق نے جارحانہ کھیل پیش کرنے
کا دعوی کیا تھامگر پورے دورے میں قومی بلے باز ڈرے ڈرے نظر آئے۔
ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ٹیم کے لیئے نہیں بلکہ اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ٹی ٹوئینٹی سیریز کی بات کی جائے تو سوائے کپتان بابر اعظم اور افتخار احمد کے کوئی
بھی کھلاڑی اچھی کارکردگی نہیں دیکھا سکا۔ پچھلے تین سال سے قومی ٹیم کے ساتھ
رہنے والے اوپنر فخر زمان کو تین ٹی ٹوئینٹی میچز میں سے دو کھیلنے کا موقع ملا
جس میں انہوں نے صرف دو رنز اسکور کیے۔

آصف علی کو تین میں سے دو میچز کھیلنے کا موقع دیا گیا جس میں وہ فقط 15 رنز بناسکے۔
حارث سہیل تین میچوں میں 18 رنز سے زیادہ نہ کرسکے۔ بلے بازوں سے شکوہ الگ گیند باز
بھی فاسٹ ٹریک پر اپنے جوہر دیکھنے میں ناکام رہے۔ تین میچوں میں میزبان ٹیم کے صرف
3 ہی کھلاڑی آئوٹ ہوئے،محمد عامر ،محمد عرفان اور عماد وسیم ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔

بری کارکردگی کا سلسلہ ٹیسٹ سیریز میں بھی جاری رہا۔
قومی بیٹنگ لائن اپ ٹیسٹ سیریز میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
جہاں ایک طرف آسٹریلین پلیئرز رنز کے انبار لگاتے رہے وہیں قومی بلے باز کرس
پر رکنا ہی بھول گئے۔

کپتان اظہر علی چار اننگز میں 73 رنز بناسکے،شان مسعود 156 افتخار احمد
چار اننگز میں 44 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے،پہلے ٹیسٹ میں حارث سہیل دونوں
اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوئے۔ دوسرے ٹیسٹ میں حارث سہیل کی جگہ امام الحق
کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا مگر وہ بھی کچھ کمال نہ دیکھا سکے۔

انہوں نے دونوں اننگز میں صرف 2 رنز بنائے، اسد شفق چار اننگز میں 142 رنز،
سابق کپتان سرفراز احمد کی جگہ ٹیم میں بطور وکٹ کیپر بیٹسمین شامل کیے گئے
محمد رضوان چار اننگز میں 177 رنزبناسکے۔بابر اعظم چار اننگز میں 210 رنز بنا کر ٹاپ اسکور رہے۔

https://www.khabarwalay.com/2019/11/30/12275/

دورے آسٹریلیا میں جہاں بلے باز وں نے نہ دیا ساتھ وہیں گیند بازوں کا جادو بھی نہ چل سکا۔
آسٹریلیا دورے کا حصہ بنانے والے کم عمر نسیم شاہ صرف ایک وکٹ لے سکے اور سیریز کا
دوسرا میچ کھیلنے والے تیز رفتار موسی خان اپنے ڈبیو میچ میں ناکام ثابت ہوئے۔

اس کے علاوہ دیگر باولر ز میں شاہین شاہ آفریدی چار اننگز میں 5 اور یاسر شاہ 4 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی اہم بات یہ ہی کہ پاکستان کو دونوں ٹیسٹ میچوں میں
میزبان ٹیم کے ہاتھوں اننگز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

دورے آسٹریلیا میں شاہینوں کو بری کارکردگی پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانا
بنایا جارہا ہے۔ جہاں سابق کھلاڑیوں کی جانب سے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ شکست
زیر بحث ہے ،وہیں اظہر علی سے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت واپس لینے کے مطالبات میں بھی
تیزی آگئیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان کو جب آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست ہوئی تھی
تو سیاسی شخصیت کی جانب سے بھی ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق سے عہدے
واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قومی ٹیم میں مسلسل تجربوں سے شہریوں میں شدید
غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

گیارہ دسمبر سے راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں شاہینوں کا کیا اسکواڈ ہوگا ؟
کیا ٹیم کے کپتانی اظہر اعلی ہی کریں گے؟
قائد اعظم ٹرافی میں مسلسل رنز کے ڈھیر لگانے والے فواد عالم کو ٹیم میں جگہ ملے گی یا نہیں؟

ان سب باتوں کا جواب دینے کے لیئے چیف سلیکٹر مصباح الحق صاحب کو عوام
کے سامنے آنا ہوگا اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ دورے آسٹریلیا میں ناتجربے کار ٹیم کو
بھیجنے کے پیچھے آخر کیا مقاصد تھے؟

ان سب سوالات کے جوابات مصباح الحق کب دیں گے؟ اسکا تو علم نہیں ،البتہ سوشل میڈیا
پر مذاقیہ انداز میں یہ لطیفہ ضرورمشہور ہوگیا کہ “قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر مصباح الحق
نے ہیڈ کوچ مصباح الحق سے آسٹریلیا میں بدترین شکست پر رپورٹ طلب کرلی ہے”
اب شکست خوردہ ٹیم کی ہار پر جواب” ہیڈ کوچ” دیں یا “چیف سلیکٹر “شائقین سوال
” مصباح الحق” سے ہی کریں گے ۔


شیئر کریں: