مسلہ کشمیر کا حل برطانیہ کی اخلاقی زمہ داری ہے، افضل خان

شیئر کریں:

برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان کہتے ہیں مسلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کی آزادی سے پہلے چلا آرہا ہے۔
ڈوگرہ راج میں بھی کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا۔
صرف آذان مکمل کرنے تک درجنوں مسلمانوں کا شہید کردیا گیا۔
افضل خان نے سینئر صحافی ندیم رضا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہبھارت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد اور جبر سے مسلے حل نہیں ہوتے۔

افضل خان نے ندیم رضا کوانٹرویو میں مزید کیا کہا؟

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی تو کرتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
افضل خان کہتے ہیں برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کئی بار آواز اٹھائی گئی
لیکن پارلیمنٹ نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔
جب بھی پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جاتی ہے تو اسے بھارت اور پاکستان کا آپسی مسلہ قرار دے دیا جاتا ہے
حلانکہ حقیقت اس سے برعکس ہے۔ کشمیری لوگ بھی مسلہ کمشیر کے فریق ہیں۔
برطانیہ سیکیورٹی کونسل کا بھی مستقل رکن ہے اس لیے برطانیہ کی زمہ داری ہے
کہ وہ اپنے فرائض پورے کرے اور مسلہ کشمیر کو حل کرے۔

جموں کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ، پاکستان میں یوم استحصال

برطانوی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار قائم کر رکھا ہے۔
بھارت میں اقلتیوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے۔
لداخ پر بھی چین اور بھارت میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔
دنیا کو سوچنا چاہیے کہ خطے میں تین ایٹمی ملک آمنے سامنے کھڑے ہیں
اور بھارت کے پاکستان اور چین سے حالات کشیدہ ہیں۔
ان ممالک کی کشیدگی سے دنیا کے امن کو خطرہ ہے
اس لیے دنیا کو مسلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
افضل خان کہتے ہیں مسلہ کشمیر پر عرب دنیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
عرب دنیا کو تجارتی روابط سے بالاتر ہو کر بھارت کے ساتھ مسلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے۔


شیئر کریں: