مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ڈھائی ڈھائی سال کے لیے ہو گا؟

مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ڈھائی ڈھائی کے لیے ہو گا؟

انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے. کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت لینے سے محروم رہی کیا اب مسلم لیگ ن
اور پیپلز پارٹی کے آدھی ٹرم کے لیے وزیراعظم ہوں گے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام کی ملاقات میں کئی تجاوزیز کے دوران ایک
یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے وزیراعظم آدھی آدھی ٹرم کے لیے وزارت عظمی سنبھال لیں.
مسلم لیگ ن کے وفد نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم مسلم لیگ ن کا ہوگا. اس پر آصف علی زرداری نے کہا بلاول بھٹو زرداری کو
پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر چکی ہے.
دونوں جماعتوں کے درمیان وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں اتحادی حکومتیں بنانے پر اتفاق کرلیا گیا. لیگی قیادت نے ایم کیو ایم سے
ملاقات اور آزاد ارکان سے رابطوں کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی قیادت کو آگاہ کیا.
دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی روشنی میں پانچ سالہ روڈ میپ کی تجویز بھی دی. پیپلز پارٹی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں
آج مسلم لیگ نون کی طرف سے شراکت اقتدار کی تجاویز پیش کی جائیں گی.