مسلمان رہنما بائی کاٹ مہم ناکام بنادیں گے

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

گستاخانہ خاکوں کی مزمت کرتے ہوئے کچھ باضمیر افراد سوشل میڈیا پر فرانس مصنوعات کی
بائی کاٹ مہم چلا رہے ہیں۔

کویت میں انفرادی طور پر بعض اسٹورز مالکان نے فرانس کی مصنوعات ہٹا دی ہیں۔
سوشل میڈیا اکٹویسٹ بھی بڑھ چڑھ کر مہم چلا رہے ہیں لیکن پاکستان، ترکی اور ایران کے
سوا مسلمان ممالک خاموش ہیں۔
رحمت العالمین صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف مہم اس
طرح چلائی جاتی ہے۔

لیکن دوسری طرف سعودی عرب نے ترک مصنوعات کے خلاف مہم زور و شور سے شروع کر رکھی ہے۔

سیاسی اثر و رسوخ پر اسلامی ممالک کی لڑائی

نظریاتی اختلافات یا سیاسی اثرورسوخ کی لڑائی نے دو اسلامی ممالک کو سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
سعودی عرب نے ترک مصنوعات کو اپنے ملک کی مارکیٹس سے صفایا کرنے کی مہم جاری کی ہوئی ہے۔
ایسے میں ایک دوسرا مسلمان ملک مصر اپنے برادر مسلم ملک ترکی کی منصنوعات کی جگہ
لینے کے لیے بے تاب ہے۔
سعودی عرب کی مارکیٹ حاصل کرنے کے لیے مصر نے بھرپور مہم شروع کر دی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ریاض کے بڑے اسٹور نے ترکی کی تمام مصنوعات ہٹا دی ہیں اور ان کی
جگہ مصری مصنوعات رکھ دی گئی ہیں۔

اکتوبر کے آغاز پر سعودی عرب چیمبرز کونسل کے سربراہ نے ترک مصنوعات کے بائی کاٹ
کا اعلان کیا تھا۔
سعودی عرب کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی دو سال پہلے اکتوبر کے مہینہ ہی میں خراب ہونا شروع ہوئے تھے۔
اکتوبر 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوجی کا استنبول کے سفارت خانہ میں انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
سعودی سفارت خانہ میں صحافی کے قتل کے محرکات ترک حکومت ہی منظر عام پر لائی تھی۔
ترک صدر طیب اردغان نے حقائق کا علم ہونے پر سعودی حکومت کو اس قتل کا زمہ دار قرار دیا۔
اس الزام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔
صحافی کے قتل کی سازش بے نقاب ہونے پر سعودی بادشاہت کی ساکھ بری طرح مجروع ہوئی۔
پھر مسلمانوں کے دو طاقتور ملک عملا ایک دوسرے کے سامنے آگئے اور باقاعدہ پراکسی وار کا آغاز ہوا۔

پراکسی وار کا فائدہ کس نے اٹھایا؟

بڑھتے ہوئے کھچاؤ کی وجہ سے سعودی عرب کی تاجر کونسل نے ترک مصنوعات کے بائی کاٹ کا اعلان
کیا تو مصر نے خود کو متبادل کے طور پر پیش کر دیا۔

اس لڑائی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مصر کے سرمایہ کاروں اور تاجروں نے فوری طور پر سعودی کونسل سے رابطہ کیا۔
ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مصری مصنوعات کو سعودی مارکیٹس میں لانے کی پیش کش کر ڈالی۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے اسٹورز پر اب مصری پروڈکٹس دیکھائی دینے لگی ہیں۔
سعودی عرب میں سب سے زیادہ طلب کنسٹرکشن مصنوعات کی ہے اور مصر پہلے سے ہی ترکی کا حریف چلا آرہا تھا۔
اب مصر کو کھلی مارکیٹ مل گئی اور وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ترک بائی کاٹ مہم میں
سعودی عرب سے بڑھ کر آواز بلند کر رہا ہے۔
رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں 197 ملین ڈالر کی کنسٹرکشن مصنوعات سعودی عرب مصر سے درآمد کر چکا ہے۔
اس طرح سعودی عرب کو مصنوعات درآمد کرنے والا مصر چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ مصر کا میڈیا بھی ترک مخالف بائی کاٹ مہم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود مصر کی سعودی عرب ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کیا عرب ممالک کا دشمن ہے؟

معاشی مفادت کے لیے مصر کا میڈیا اس حد تک گر گیا ہے کہ ترکی کو عرب مملک کا دشمن تک قرار دے دیا۔
بااثر میڈیا گروپس یہ تک کہنے لگے ہیں طیب اردوغان عرب ممالک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
تمام ممالک کو چاہیے کہ ترکی کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے اس کی مصنوعات کا بائی کاٹ کریں۔
ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ مصر کی تجارت بڑھ رہی تو دوسری جانب ترکی کے ساتھ تاریخ کی
کم ترین سطح پر پہنچ رہی ہے۔
رواں سال کے دوران اب ترک کے ساتھ مصر کی تجارت تقریبا 19 فیصد یعنی پونے تین ارب ڈالر تک گر گئی ہے۔
ترکی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ سعودی قیادت میں بائی کاٹ مہم سے مشرق وسطی میں ترک کنٹریکٹرز
کا 3 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو چکا ہے۔

سعودی عرب کیا درآمد کرتا تھا؟

سعودی عرب ترکی سے کنسٹرکشن اور گھریلو مصنوعات وافر مقدار میں درآمد کیا کرتا تھا۔

درآمد کی جانے ولی مصنوعات میں گھروں کی تعمیرات میں استعمال ہونے والی مصنوعات، انجنیئرنگ
پروڈکٹس، الیکٹریکل اپلائنس، کھانے پکانے والی پروڈکٹس اور اسی طرح کے دیگر آئٹمز شامل ہیں۔
اب یہ تمام مصنوعات ترکی کے بجائے مصر سے درآمد کیے جارہے ہیں۔
صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر نے ان اشیا کے مزید پلانٹس لگا دیے ہیں۔

A woman views a Turkish coffee set as a vendor arranges souvenir merchandise at a bazaar in Libya’s capital Tripoli on September 28, 2020. (Photo by Mahmud TURKIA / AFP) (Photo by MAHMUD TURKIA/AFP via Getty Images)

سعودی مصر گٹھ جوڑ نے ترکی کو لیبیا میں متحرک کردیا۔

سعودی عرب کی بائی کاٹ مہم کو اپنے حق میں کرنے والے مصر کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی نے لیبیا کا رخ کر لیا۔
معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو سنبھالا دینے کے لیے ترکی نے لیبیا کی مارکیٹ پکڑ لی۔
مصر کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی نے لیبیا ترکی بزنس پلیٹ فارم کو متحرک کر دیا۔
سعودی عرب کی طرح لیبیا میں بھی مصری مصنوعات کی بھرمار ہو چکی ہے۔
مصر اور لیبیا کے درمیان صرف تجارتی ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور دفاعی تعلقات بھی بہت مستحکم ہیں۔
یہ دونوں ہی ملک سعودی عرب کے قریب تر ہیں ترکی کو لیبیا میں بھی پزیرائی ملنے کے کم ہی امکانات ہیں۔
بات ہورہی تھی فرانس بائی کاٹ مہم کی اور درمیان میں ترکی، سعودی عرب، مصر اور لیبیا کا ذکر
کرنے کا مقصد زمینی حقائق کو منظر عام پر لانا مقصود تھا۔

مسلمان ممالک جب آپس میں برسرپیکار ہوں اور اپنی آپس کی پراکسی وار میں ایک دوسرے کو نقصان
پہنچانے کے درپے لگے ہوں تو پھر ان کا کسی بھی نقطے پر یکجا ہونا ممکن نہیں۔
بعض ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات مستحکم کرنے اور اس کے فوائد پر
بیانات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔

لیکن او آئی سی، عرب لیگ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ والیہ وسلم
کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانس کے صدر کے خلاف کوئی ردعمل سامنے آیا کیا؟
مسلمان ممالک کو آپسی جنگوں اور ایک دوسرے کے خلاف اتحاد بنانے سے فرست نہیں۔
ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے ایک دوسرے کو گرانے کے لیے غیروں کا سہارا لینے پر بھی فخر کرتے ہیں۔
ایسے میں فرانسیسی مصنوعات کی بائی کاٹ مہم محض چند روز تک سوشل میڈیا پر ٹرینڈ تو بنائی
جاسکتی ہے لیکن بے حس مسلمان رہنما اسے اپنے طرز عمل سے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔


شیئر کریں: