مستقبل کے اساتذہ بلوٹوتھ چپل سے نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے

شیئر کریں:

لکھنے پڑھنے کے بجائے دوسری غیرضروری چیزوں میں وقت ضائع کرنے والے امتحانات میں پاس ہونے
کے لیے شروع سے ہی مختلف ذرائع استعمال کرتے آرہے ہیں۔ ایسے افراد کو کوئی بوٹی مافیا، پھرے مافیا
تو کوئی چیٹر کے نام سے پکارتے ہیں۔

زمانہ کے ساتھ ساتھ نقل کے طریقہ کار بھی بدلتے رہے ہیں۔ اس دور جدید میں نقل کے طریقے بھی جدید ہی
سامنے آرہے ہیں۔ موبائل اور گھڑی کے بعد اب بلوٹوتھ چپل بھی نقل کے لیے ایجاد کر لی گئی ہے۔

ایسی ہی بلوٹوتھ چپلیں بھارت کی ریاست راجھستان میں ٹیچرز کے امتحان کے دوران پکڑی گئی ہیں۔
راجھستان کے سرکاری اسکول میں ٹیچرز کی آسامیوں کے لیے امیدواروں کا امتحان ہورہا تھا کہ ایک
نوجوان پر شک ہوا، تلاشی لینے پر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ چپل کا انکشاف ہوا۔

پولیس نے امتحان ہال میں دیگر امیدواروں کو بھی چیک کر کے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ نقل کے لیے
بنائی گئی اس خصوصی چپل میں موبائل اور بلوٹوتھ ڈیوائس لگائی گئی ہے۔ اسی طرح امیدوار کے
کان میں چھوٹی سی ڈیوائس کے ذریعے امتحال ہال کے باہر بیٹھا کوئی شخص سوالوں کے جواب بتا
رہا ہوتا ہے۔

اس سے پہلے اجمیر شریف میں بھی امتحان میں نقل کےدوران ایسی ہی چپل پکڑی گئی تھی جس کے بعد
اس نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کیا گیا۔

پولیس کے مطابق نقل والی بلوٹوتھ چپل انتہائی مہارت کے ساتھ بنائی گئی ہے اور ایک چپل کی قیمت
کم از کم 2 لاکھ ہے۔


شیئر کریں: