مزار قائد واقعہ کی تحقیقات، سندھ حکومت کے پیر لڑکھڑا گئے

شیئر کریں:

رپورٹ عاطف حسین

مزار قائد پر کیپٹن صفدر کی نعرے بازی اور پھر مقدمے نے سب ہی کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت دونوں ہی سرپکڑے بیٹھے ہیں۔

مزار قائد کیس کیسے بگڑا؟

وفاقی حکومت کی خواہش تھی کیپٹن صفدر اور مریم نواز کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کیا جائے۔
اس کے برعکس سندھ حکومت اپنے میزبانوں پر مقدمہ درج کرنا نہیں چاہتی تھی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن مجسٹریٹ کے حکم نامے کی تکمیل چاہتے تھے۔
آئی جی سندھ مشتاق مہر بھی راضی تھے لیکن کچھ نابالغ سیاست دان جذباتی ہوگئے اور طاقتور لوگوں کو اس معاملے میں شامل کرلیا۔
اعلی پولیس افسران کو پیغام دیا گیا اگر کیپٹن صفدر اور مریم نواز کو گرفتار نہ کیا گیا تو صبح تک امن و امان کی صورت حال خراب ہوجائے گی۔

وزیراعظم نے میرا ایکسیڈنٹ کروانے کی منصوبہ بندی کی ہے، خواجہ آصف

یہ بھی کہا گیا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنان کے تصادم کا خدشہ ہے۔
اعلی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سندھ پولیس کی کوشش تھی تاخیری حربہ استعمال
کیا جائے تاکہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کراچی سے روانہ ہوجائیں اور پھر مقدمہ درج کرلیا جائے۔
مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کی بحث میں رات ہوگئی تو معاملہ ضد پر آگیا۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن گھر چلے گئے اور آئی جی سندھ مشتاق مہر فون بند کرکے سوگئے۔
دو طاقتور اداروں کے افسران آئی جی ہائوس پہنچ گئے مشتاق مہر کو نیند سے جگایا گیا اور حکم دیا
گیا آپ ہمارے ساتھ چلیں ایک اہم میٹنگ ہے۔
مشتاق مہر معاملے کو بھانپ گئے اور طاقتور ادارے کے دفتر پہنچ گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن بھی موجود تھے۔
طاقتور افراد نے مداخلت کی اور رات گئے تحریک انصاف کے ایک مفرور ملزم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اہم مداخلت پر حکم دیا گیا کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کو گرفتار کرلیا جائے۔
سندھ پولیس کے اعلی افسران سندھ کے دو طاقتور اداروں کے اعلی افسران کے سامنے بے بس ہوگئے اور
کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
کیپٹن صفدر کو آواری ہوٹل سے گرفتار کر کے عزیز بھٹی تھانے منتقل کردیا گیا۔
آئی جی سندھ مشتاق مہر اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے سندھ حکومت کو اس صورت حال سے آگاہ کردیا۔
بدلتی صورت حال پر پیپلز پارٹی معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئی۔
سندھ حکومت کے ٹی وی پر نظر آنے والے ترجمانوں نے فون بند کردیئے اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ
نے دونوں پولیس افسران کو وزیراعلی ہائوس طلب کرلیا۔
دونوں افسران نے رات کا قصہ سنایا اور ناراضی کا اظہار کیا جس کے بعد پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت
کو حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

پی ڈی ایم میں اختلافات کس نے ختم کرائے؟

مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق گورنر سندھ کو واضح پیغام دیا گیا ہمارا آئی جی اغواء کرکے مقدمہ
درج کرایا گیا جس پر ہم شرمندہ ہیں۔

مریم نواز کی گرفتاری کا خدشہ

بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کو فون کیے جنہیں نظر انداز کر دیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی کو بھانپ گئے۔
مولانا نے ثالثی کا کردار ادا کیا جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے مقدمے کے اندراج اور گرفتاری پر احتجاج کیا۔
کیپٹن صفدر کی ضمانت ہو گئی کیپٹن صفدر اور مریم نواز لاہور روانہ ہوگئے۔

سندھ پولیس کے افسران نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلی سندھ نے پولیس کو دلاسہ دیا کہ وہ اگلے روز اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

آئی جی سندھ مشتاق مہر کو تسلی دی گئی اس پریس کانفرنس میں پولیس کا موقف پیش کیا جائے گا لیکن وزیراعلی سندھ کی پریس کانفرنس سے قبل سندھ کابینہ کے چار دبنگ وزراء نے صحافیوں سے گزارش کی کہ آئی جی سندھ کے مبینہ طور پر اغواء ہونے کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس جلدی جلدی ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔
جلدی جلدی کیمرے بند کرائے گئے تو صحافیوں نے سوال داغ دیئے “آئی جی سندھ مشتاق مہر رات کہاں تھے”۔
اس سوال پر سناٹا چھا گیا اور وزیراعلی سندھ بات گھما کر روانہ ہوگئے۔
سینٹرل پولیس آفس میں وزیراعلی سندھ کی پریس کانفرنس کو براہ راست دیکھا جارہا تھا جب وزیراعلی سندھ نے پولیس کا موقف پیش نہ کیا اور حقائق منظر عام پر نہ لائے تو سندھ پولیس کے اعلی افسران رابطوں میں آگئے اور آئی جی سندھ سے اظہار یکجہتی کیلئے چھٹیوں کی درخواستیں دینا شروع کردیں۔
پولیس افسران آئی جی سندھ کی رہائش گاہ پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔

بلاول بھٹو نے ذہانت سے میدان مار لیا

بلاول بھٹو زرداری معاملے کو بھانپ گئے اور چار گھنٹے بعد دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں آرمی چیف کو مخاطب کیا گیا۔
مطالبہ کیا گیا وہ کون لوگ تھے جو آئی جی ہاؤس پہنچے؟
وہ کون لوگ تھے جنہوں نے مشتاق مہر کو مبینہ طور پر اغواء کیا یا یرغمال بنایا؟
آرمی چیف نے بھی اس کا نوٹس لیا اور کور کمانڈر کراچی کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔
حالات کو اپنے حق میں دیکھتے ہوئے بلاول بھٹو سندھ پولیس کو منانے آئی جی ہاؤس پہنچے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ اس تحقیقات سے طاقتور لوگ پریشان ہیں آئی جی ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے جس میں دو اداروں کے افسران نظر آرہے ہیں۔
کیپٹن صفدر جس ہوٹل میں مقیم تھے وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی سندھ پولیس کے
علاوہ کچھ اور لوگ نظر آرہے ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ اب تک کی تحقیقات میں چار افسران سامنے آئے ہیں دو آئی جی ہاؤس پہنچے
اور دو میٹنگ میں موجود تھے۔

آئی جی اغوا معاملے کی تحقیقات سامنے آسکیں گی؟

اب بات ہے تحقیقات کی کہ کیا حقائق منظر عام پر لانا ممکن ہو سکے گا۔
تحقیقات منطقی انجام تک پہنچنے کی اُمید یوں نہیں کہ وزیر اعلی کو تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کرنے
کے لئے وزراء نہیں مل رہے۔
سندھ سرکار کا کوئی دبنگ وزیر تحقیقاتی رپورٹ کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا۔
پولیس افسران نے فی الحال دس دن کے لئے چھٹیاں موخر کردی ہیں۔
پولیس افسران کو اس بات ادراک ہے کہ کوئی بھی طاقتور حلقوں کے سامنے کھڑا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کے لیے کوئی تیار نہیں ہو رہا اور سب ہی کے پیر لڑکھڑا رہے ہیں۔

کیا حکومتی کمیٹی کے اراکین دباؤ میں آئے بغیر شفاف تحقیقات کرسکیں گے؟
اگر کمیٹی اور کورکمانڈر کی رپورٹس میں تضاد ہوا تو کیا ہوگا؟ حتمی رپورٹ کس کی مانی جائے گی؟
حکومتی کمیٹی کی تحقیقات کا طریقہ اور دائرہ کار کیا ہوگا؟
سی ڈی آر ملے گا اور کیا سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئے گی؟
یہی وجہ ہے معاملے کو اسی طرح طول دے کر داخل دفتر کر دیا جائے گا اور سب ہی کی عزتیں بھی
محفوظ رہیں گی اور بھرم بھی قائم رہے گا۔


شیئر کریں: