مریخ کا 8 ماہ کا سفر 3 ماہ میں طے ہوگا

شیئر کریں:

مریخ پر پہنچنے کے لیے ناسا نے ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا۔
امریکی خلائی ادارے نے ایٹمی راکٹ کی تیاری پر کام شروع کیا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ اس ایٹمی راکٹ کی سے مریخ تک کا سفر صرف تین ماہ میں مکمل ہوسکے گا۔
مریخ کا زمین سے فاصلہ 1 ارب 40 کروڑ میل ہے۔
اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے ایٹمی راکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی سے چلنے والے راکٹ کی رفتار انتہائی تیز ہوگی۔

اس راکٹ میں اتنا ایندھن ہوگا کہ انسان زمین سے مریخ اور مریخ سے زمین پر وآپس آسکے۔
یہ راکٹ انتہائی تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔
ایٹمی انرجی کے استعمال سے راکٹ زمین اور مریخ کے مدار سے براہ راست باہر نکل سکے گا۔

راکٹ جوہری طاقت سے مریخ کا 8 ماہ کا سفر صرف 3 ًماہ میں کرسکے گا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ ایک سرد سیارہ ہے جہاں آکسیجن نہ ہونے کے برابر ہے۔
جوہری توانائی سے چلنے والے راکٹ کی تیاری زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں ایک سنگ میل ہوگی۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ جوہری راکٹ سے نہ صرف مریخ بلکہ گلیکسی سے باہر سفر کرنا بھی ممکن ہوسکے گا۔ ٓ


شیئر کریں: