مردان کی سوتنوں‌ کی معاشرہ کے لیے مثال، بلدیاتی انتخابات میں‌ مشترکہ مہم

شیئر کریں:

سوتن یعنی ایک شوہر کی دو بیویاں اور ہمارے معاشرے میں‌ سوتن کا لفظ سن کر ہی زہن میں لڑائی جھگڑے اور مار دھاڑ کی کہانیاں
گھومنے لگتی ہیں۔ تاہم خیبرپخونخواہ کی سوتنوں‌ نے اس فرسودہ تھیوری کو یکسر بدل دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں جہاں مردوں‌ کے ساتھ ساتھ خواتین بھی قسمت آزمائی
کے لیے میدان میں نکل آئی ہیں.
خواتین الیکشن جیت کر عوام کی خدمت کا عزم لئے ہوئے ہیں. مردان سے دو سوتنیں شوہر کی مدد سے میدان میں اتری ہیں۔
بلدیاتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹوں کے حصول کے لیے خواتین گھر گھر مہم چلارہی ہیں. مردان کے علاقہ پلو ڈھیری کی
ان دو خواتین میں ایک جنرل نشست اور دوسری مخصوص نشست کے لئے انتخابات لڑ رہی ہے. دونوں آپس میں سوتنیں ہیں، گھر کے
اندر کا اتحاد اب باہر بھی سیاسی جادوگری دکھانے کے لئے بے تاب ہے.

کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر یہاں ان دونوں خواتین کی کامیابی کے لئے ان کا شوہر بھی سرگرم
ہے۔ شوہر کو اپنی دونوں بیویوں پر ناز بھی ہے اور ان کی سیاسی صلاحیتوں پر فخر بھی۔

اشفاق حسین کی دونوں بیویاں گھر کی ذمہ داری نبھانے کے بعد الیکشن مہم کے لئے ایک ساتھ نکلتی ہیں ان کا عزم ہے کہ معاشرے
میں تعلیم اور سہولیات عام ہوں.
دونوں‌ خواتین نے معاشرہ کی تمام خواتین کو پیغام دیا ہے کہ لڑائی جھگڑے کرنے سے گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے نفرتوں‌ سے دوریاں
بڑھتی اور رشتے ٹوٹتے ہیں. جب اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے تو پھر ہم کیوں‌ گھر کا ماحول خراب کرنے پر تلے رہتے ہیں.


شیئر کریں: