مراد علی شاہ اور نہیں؟

شیئر کریں:

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سندھ حکومت کے نڈر کپتان نے ایک اور قابل تقلید فیصلہ کیا ہے۔
اجتماعی طور پر باجماعت نماز اورجمعہ کی نماز کے اجتماع پر عارضی بور پر پابندی لگا دی ہے۔
وزیرا علی سندھ سید مراد علی شاہ کا جان لیوا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک کے بعد ایک فیصلہ مخالفین کو بھی ان کا گرویدہ کرتا جارہا ہے۔
بس فرق صرف اتنا ہے کہ مخالفین تسلیم کرتے ہیں لیکن لب پر لاتے نہیں اور پھر تاخیر سے وہی کام انجام بھی دے دیتے ہیں۔
کورونا کےخلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے وزیر اعلی مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم کورونا کے خلاف جنگ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتی چلی جارہی ہے۔
انسان کا دفاعی نظام تباہ کرنے والے کورونا کی پیش قدمی روکنے کیلئے تعلیمی اداروں کی بندش، قرنطینہ کا قیام اور صوبے کا لاک ڈاؤن تمام مراحل سندھ حکومت آسانی سے طے کرتی جارہی ہے۔
اس کے برخلاف تحریک انصاف کی مرکز اور تین صوبوں میں قائم حکومتیں ابھی تک باہمی مشاورت سے آگے نہ بڑھ بڑھ پارہی پیں۔
کورونا کا پہلا حملہ ہوا تو وزیر اعلی سید مراد علی شاہ اپنی ٹیم سعید غنی،مرتضی وہاب اور ناصر شاہ کے ساتھ خم ٹھونک کر ان دیکھے دشمن کے خلاف میدان میں آگئے۔
سندھ حکومت کے تمام وسائل موذی مرض سے عوام کو بچانے کیلئے وقف کر دئیے۔
خود اورٹیم کی دن رات محنت سے کورونا کے بڑھتے قدم روک دیے۔
سندھ سے باہر نکلیں تو مرکزی ٹیم کے کپتان، سلیکٹر اور ان کے کھلاڑی کورونا کے خلاف میچ جیتنے کیلئے باہمی مشاورت سے آگے نہ بڑھ سکے۔
جو بھی فیصلہ کیا سندھ حکومت کو دیکھ کر اس کے تقش قدم پر چلتے ہوئے کیا۔
لاک ڈاؤن سے لے کر قرنطینہ کے قیام اور مذہبی امور کے فیصلوں تک کپتان کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔
وزیر اعظم سندھ حکومت پر کرپشن کے الزامات کوبھی ثابت نہ کرسکے اور کارکردگی میں بھی کوسوں دور نظر آتے ہیں۔
فلاحی کام کیلئے اپنا ایک مقام رکھنے والا عمران خان آج تنہا نظر آتا ہے۔
اس کے برخلاف مبینہ کرپشن کے الزامات میں گھری سندھ حکومت مخیر حضرات کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔
ان کی ایک آواز پر چندہ دینے والوں کی لائنیں لگ چکی ہیں۔
دوسری طرف کورونا وائرس پھیلانے میں اہم کردار ادا کرنے والی بلوچستان حکومت تاحال خاطر خواہ اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بلوچستان حکومت اور وفاق اپنی نااہلی چھپانے کی ناکام کوششوں میں ملک و قوم کا مزید نقصان کیے جارہی ہیں۔


شیئر کریں: