محمد بن سلمان کو قتل کے الزام میں موت کی سزا سنا دی گئی

شیئر کریں:

سعودی فرماں روا محمد بن سلمان اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کے الزام میں عدالت نے
موت کی سزا سنادی۔ حوثیوں کی عدالت نے صدر صالح الصمد سمیت کئی شہریوں کے قتل کا 17 افراد
کو زمہ دار قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے۔

حوثیوں کی اعلی قیادت کی ہلاکت میں ملوث 17 افراد میں سے 9 کو فائرنگ اسکواڈ نے قتل کر دیا گیا۔
ان لوگوں کو دارلحکومت ثنا کے تحریر اسکوائر پر شہریوں کی موجودگی میں گولیاں مار کے ہلاک
کیا گیا۔

حوثیوں کی عدالت نے محمد بن سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی غیرموجودگی میں سزا سنائی۔
حوثی رہنما صالح الصمد یمن کے شمالی علاقوں میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ملکی صدارت کے
منصب پر زمہ داریاں ادا کر رہے تھے کہ سعودی عرب کی قیادت میں 41 ممالک کی فوج نے اپریل 2018
میں بمباری کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

حوثیوں نے اپنے لیڈر کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز سعودی عرب پر
میزائل اور ڈرون حملے کیے جاتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق سعودی اور بیشتر خلیجی ریاستیں حوثی مخالف یمن حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حوثی ایران کی پروکسی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے 2014 میں دارلحکومت ثنا پر قبضہ
کرنے کے بعد سے یمن میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے اور پھر مارچ 2015 میں سعودی اتحاد نے جنگ
مسلط کر دی لیکن 7 سال سے زائد عرصہ سے جاری جنگ کے باوجود حوثیوں کو شکست دینے میں اتحاد
ناکام رہا ہے۔


شیئر کریں: