محرم 2020 کی مجالس پر آیت اللہ سیستانی کا فتوی

شیئر کریں:

دور کورونا میں آنے والے محرم الحرام کے سلسلے میں آیت اللہ العظمی سید علی
سیستانی نے اہم فتوی جاری کر دیا ہے۔

نجف اشرف سے اپنے فتوی میں آیت اللہ سیستانی مسلمانان عالم سے کہا ہے کہ بڑے
اجتماعات سے گریز کیا جائے۔

محرم کے دردناک اور دلسوز ایام میں سیدالشہداء علیہ السلام کی شہادت پر غم
ظاہر کرنے کے مختلف راستے ہیں۔

ٹی وی چینلوں اور سائبر اسپیس کے ذریعے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا
کو زیادہ سے زیادہ براہ راست نشر کیا جائے۔

دینی و ثقافتی ادارے ماہر خطیبوں سے استفادہ کریں اور مومنین کو اپنے گھروں
میں رہ کر مجالس سننے کی ترغیب دلائیں۔

گھروں پر مجالس مقررہ وقت پر انجام پائيں جن میں صرف اہل خانہ یا آمد و رفت
رکھنے والے افراد ہی شریک ہوں۔

ٹی وی یا انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست نشر ہونے والے عزاداری کے پروگراموں
کو دیکھیں اور سنیں۔
عمومی مجالس میں سبھی میڈیکل پروٹوکولز پر پوری طرح سے عمل ہونا چاہیے۔
مجلس میں موجود لوگوں کے درمیان سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھا جائے۔

ماسک اور کورونا کی روک تھام کرنے والے دیگر ضروری وسائل کو استعمال کیا جائے۔

اس بات کا بھی خيال رکھا جائے کہ متعلقہ حکام جتنے لوگوں کی تعداد معین کریں اتنے
ہی لوگ مجالس میں شریک ہوں۔

مجلس عزا کے انعقاد کے مقام اور مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کے
پیش نظر یہ تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔

عاشور کا پیغام زیادہ سے زیادہ تقسیم کیا جائے، چوراہوں، سڑکوں، گلیوں اور دیگر عمومی
مقامات پر قوانین کی تعمیل کرتے ہوئے علم اور سیاہ کپڑے نصب کیے جائیں۔

محرم کے ایام میں رائج طریقے سے نذر و نیاز کی تیاری اور تقسیم میں میڈیکل
پروٹوکولز کا پورا خیال رکھا جائے۔

لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے کھانا تقسیم کرتے وقت بھیڑ سے بچا جائے۔
چاہے صرف خشک کھانا دینا پڑے یا پھر مومنین کے گھروں تک پہنچانے پر اکتفا کرنا پڑے۔


شیئر کریں: