March 26, 2020 at 3:53 pm

عمران عثمانی دور کی کوڑی لائے ہیں

ایک سال قبل ٹھیک آج ہی کے دن بھارت کے ٹاپ نامور اسپنر روی چندرن ایشون ایک متنازعہ رن آئوٹ کرنے کی پاداش میں شدید تنقید کی زد میں آگئے تھے۔
یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ انٹر نیشنل کرکٹ کمیونٹی تقسیم ہوگئی زیادہ تر کرکٹ مبصرین نے ایشون کو برا بھلا کہا تھا۔ .
آج ایک سال بعد ایشون نے اس موقع کی تصویر شیئر کرکے چاروں طرف سے متفقہ طور پر دادو تحسین سمیٹ لی ہے۔
کیونکہ تصویر کے ساتھ جو انہوں نے لکھا وہ اس وقت پوری دنیا کیلئے ہدایت ہے۔
انہوں نے اپنی اسی لمحے کی مثال دے کر جو بات کی اس پر آدھی دنیا اس وقت عمل کرنے کی عملی کوششوں میں ہے.
پہلے سال پرانا واقعہ یاد کرتے ہیں۔
دنیا کی مہنگی ترین لیگ آئی پی ایل کے میچ میں کنگز الیون پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے جوس بٹلر کو نان اسٹرائیک اینڈ پر رن آئوٹ کردیا تھا۔
راجستهان رائلز کی نمائندگی کرنے والے انگلش بیٹسمین بٹلر ایسے رن آئوٹ پر ششدر رہ گئے تھے۔
ہوا کچھ یوں تھا کہ اسپنرایشون گیند کرانے کیلئے جب امپائر کے قریب پہنچے تو انہوں نے بیٹسمین کو کریز سے باہر جاتے دیکھا۔
بائولنگ ایکشن کے دوران ایشون نے گیند نہیں کروائی اور مڑ تے ہوئے ہاته بڑھا کر گیند سے بیلز نیچے گرادیں۔
بٹلر احساس ہونے پر مڑے تو اس وقت تک “چڑیا ں چک گئی تھیں کهیت۔
کرکٹ کی اصطلاح میں اسے مانکڈ رن آئوٹ کہا جاتا ہے۔

اسپورٹس آف اسپرٹ کی اصطلاح میں اسے بد اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ ایک وارننگ اخلاقیات کے تقاضے پورے کرتی ہے۔
کرکٹ قوانین میں اسے آئوٹ ہی قرار دیا جاتا ہے۔
ایک سال بعد بھارتی اسٹار نے اسی تصویر کو شیئر کرتے لکھا ہے کہ غیر ضروری باہر نکلنے کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
بھارت کیلئے 70 ٹیسٹ میچوں میں 362 وکٹیں لینے والے روی ایشون کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے گھر سے باہر جانا غلط ہے۔
بھارت میں 21 روزہ جنتا کرفیو ہے چنانچہ قانون توڑوگے تو انجام وہی ہوگا جو میں نے سال قبل جوس بٹلر کا کیا تھا۔
صارفین نے کرکٹ سٹار کے اس انداز کو خوب سراہا ہے۔

Facebook Comments