ماہی گیروں کا کڑا امتحان، سی فوڈ ایکسپورٹ بھی متاثر

شیئر کریں:

ماہی گیری پر پابندی کی وجہ سے سی فوڈ ایکسپورٹ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فشریز سمیت سمندری پٹی پر ایک بار پھر سے شکار پر پابندی لگائے جانے کا امکان ہے۔
جون جولائی کے مہینے میں ہرسال سمندر میں شکار پر 2 ماہ پابندی عائد کی جاتی ہے۔
مچھلی بچے کی افزائش کی وجہ سے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ مسلسل کاروبار بندش سے ماہی گیر فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے۔
ماہی گیروں اور سی فوڈ ایکسپورٹ سے وابستہ کاروباری افراد کیلئے بری خبر ہے کہ
اب دوماہ کیلئے دوبارہ سمندر میں مچھلی کے شکار پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
ماہی گیروں اور ایکسپورٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سال پابندی کو ختم کیا جائے۔
پہلے ہی لاک ڈاؤن میں خاصا نقصان برداشت کیا۔
چئیرمین فشریز عبدالبر نے وزیراعلی کو خط لکھ دیا ہے کہ ان کے پاس پابندی ختم کرنے کا اختیار ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے کئی ہفتوں تک لاک ڈاؤن کیا گیا جس سے فشریز میں کام بند رہا۔
اب جون جولائی کے مہینے میں سمندر میں شکار پر پابندی کا اطلاق ہونے جارہا ہے۔
ماہی گیروں سمیت ایکسپورٹرز نے مسلسل کاروبار بندش کی وجہ سے اب پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
وزیراعلی سندھ کے پاس اختیار ہے کہ وہ پابندی ختم کرسکتے ہیں۔
گزشتہ سال سمندری طوفان اور پھر ڈیپ سی فشنگ پالیسی سمیت مچھلی شکار پر پابندی سے کاروبار متاثر ہوا رہا۔
رواں سال مسلسل 2 ماہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے فشریز سمیت جےٹیز پر کام بندرہا۔


شیئر کریں: