ماسک ساز صحافی مزدور

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

میں آجکل کچھ بھی نہیں کر رہا کیونکہ میرے ملک کے حکمرانوں کو عوام جاہل ملی اور عوام کو ویسے ہی حکمران ملے۔
میں سابق صحافی ہوں یا یوں کہئے آجکل فری لانسر جرنلسٹ ہوں گذشتہ سال بڑے چینل میں تھا نیا پاکستان والی حکومت آئی ان کی مالکان کے ساتھ ساز باز ہوئی اشتہارات کی ادائیگی کی رقم کا ڈرامہ رچایا گیا اور میڈیا ملازمین کی چھانٹیاں شروع ہو گئیں اس سے پہلے بھی حالات اتنے خراب نہ تھے۔

میڈیا انڈسٹری کے لوگ جو مجھ جیسے ہوتے ہیں جن کو اپنی طرف سے کام کی دھن میں مست رہنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے نکال دئیے جاتے ہیں خیر میری کہانی مختصر یہ ہے کہ قلم چلانے کا سلسلہ چھین لیا گیا تو میں بیکار ہو کے بیٹھ گیا روزگار کی تلاش کے لئے تگ و دو کی ایک چینل میں کام ملا بھی مگر ہماری سیانی حکومت نے سلسلہ ہی ایسا بنا رکھا ہے کہ الامان 3 ماہ وہاں کام کیا لاک ڈاون کے دنوں میں اور عیدالفطر کے بعد پھر سے بیروزگار ہو گیا۔

میں آجکل ماسک بنا رہا ہوں روزانہ کی بنیاد پہ مزدوری کرتا ہوں اور 14 سولہ گھنٹے کام کے بعد ملنے والی اجرت سے اپنے گھر کا نظام چلانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ناجانے کیوں لگتا ہے یہ کام بھی چھن جائے گا۔

خیر
اصل بات جو بتانا مقصود ہے وہ یہ کہ کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اس سے بچنے کے لئے ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے میرے اپنے شہر فیصل آباد میں ہزاروں لوگ ماسک بنانے اور بیچنے کا کام کر رہے ہیں۔

ماسک بنانے کے طریقہ کار نے مجھے سوچنے پہ مجبور کیا کہ جس طرز پہ ہم ماسک بنا رہے ہیں یا پورے فیصل آباد سے جو کروڑوں ماسک بن کے دوسرے شہروں ہاتھوں ہاتھ بک رہے ہیں کیا یہ محفوظ ہیں؟؟
کیا یہ محکمہ صحت یا کورونا بارے بنائے گئے ایس او پیز پر پورا اترتے ہیں؟؟

تو جواب ملا بالکل نہیں ایک چھوٹے کمرے میں کم از کم 8 لوگ بیٹھے ماسکس بناتے ہیں۔
ایک لڑکا گلو یا گم لگا کر ماسک کی ڈوری جوڑتا ہے اور اس کے سامنے والا شخص انگلی
کی پور سے زور لگا کر ڈوری اور گلو کو جوڑ کر ملا دیتا ہے۔

جگہ صاف ہے یا نہیں اس سے فرق نہیں پڑتا، سینیٹائزر کا استعمال یا ماسک بنانے کے لئے جو کپڑا استعمال ہوتا ہے وہ واقعی ماسک بنانے کا کپڑا ہے؟؟
اس بات کو میں وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ یہ ماسکس کا دھندہ بھی کورونا کی ٹریولنگ کا ذریعہ ہے۔

ہجوم اکٹھا کر کے لیبر سے دن رات کام لیا جاتا ہے ماسکس کی ڈیمانڈ اتنی ہے کہ 5 سو روپے میں بکنے والی ایلاسٹک ڈوری کی قیمت 1650 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے اور ماسک کا ریٹ روزانہ بڑھا رہا ہے۔

ہمارے ملک کے مافیاز میں ماسک مافیا کا بھی اضافہ کر لیں کیونکہ 100 فی صدی یہ بات میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ ماسک بنانے کا طریقہ کار اور جس طرح اسے بیچا جا رہا ہے ضلعی انتظامیہ اس سب سے واقف ہے مگر کسی ایک فیکٹری گودام یا کسی یونٹ پر آج تک میں نے ماسکس کی تیاری کی انسپکشن ہوتے نہیں دیکھی۔

کورونا وائرس بزنس مین طبقے ماسک مافیا اور ہماری بے چاری حکومت جسے عوام ہی جاہل ملی ہے کے لئے کسی نعمت سے کم ثابت نہیں ہو رہا فیصل آباد سے روزانہ کی بنیاد پہ کروڑوں برائے نام سرجیکل ماسک مجھ جیسے مزدوروں کے ہاتھوں بنوا کر ملک بھر میں بھجوائے جاتے ہیں۔

ہجوم اکٹھا کر کے بنائے جانے والے ماسکس کورونا سے حفاظت کر سکیں گے؟؟؟
کیا اس ماسک میں استعمال ہونے والا فیبرک واقعی سرجیکل ہے؟؟؟
یہ بات ذہن سے نکال دیں صرف اس کی تیاری کو ذہن میں رکھیے۔

جو لوگ ماسک بنا رہے ہیں یا جو بنوا رہے ہیں کیا وہ بار بار اپنی لیبر کا ہاتھ دھلواتے ہیں؟؟؟
اس کا جواب “نہیں” ہے کیا کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟؟
اس کا جواب ‘نہیں” ہے۔

سوشانت سنگھ راجپوت ایک انڈین ایکٹر تھا اس نے خودکشی کر لی اس کے پاس سب کچھ تھا۔
اس نے شہرت دیکھی مایوسیاں محرومیاں اپنے اندر کہیں چھپائے رکھیں اور ایک دن اچانک
موت کی رسی سے جھول گیا یہاں سوشانت سنگھ کا ذکر عجیب سا ہے مگر میرا سوال ہے۔
کیا ماسک مافیا بھی سب کچھ حاصل کرنے کے بعد لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی
بجائے پھچتاوے کی آگ میں جلے گا؟؟؟
خود کشی کے محرکات لذت کی انتہا ہو سکتے ہیں مایوسیاں ناکامیاں اور محرومیاں ہو سکتی ہیں میں نے غریبوں کو پریشان ضرور دیکھا ہے مگر خودکشی کرتے کم ہی دیکھا ہے مگر حکمرانوں اور تاجروں کو غیرت کرتے کبھی نہیں دیکھا خود کشی بہت دور کی بات ہے پچھتاوا وغیرہ بھی ہمیں نہیں ہو گا۔

میرا سوال یہ ہے کہ حکومت سے معاملات نہیں سنبھلے یا ماسک مافیا کے کہنے پر حکومت نے لاک ڈاون میں نرمیاں کیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے غریبوں کے بھوکے مرنے کا رونا ڈالا اس پہ میرے ذہن میں سوال کھٹک رہا ہے کہ میڈیا مالکان کی طرح ماسک مافیا سے بھی حکومت نے گٹھ جوڑ کر کے تاجروں کو کھلی چھٹی دے دی کی وہ عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹ لیں کورونا زدہ ماسک بیچیں اور مہنگے بیچیں عوام کورونا سے مرتی ہے تو مرے ہماری بلا سے۔

حکومت اور انتظامیہ کو تاجروں نے بلیک میل کیوں کیا تھا اس کی وجہ ماسک کی تیاری اور روزگار کی تلاش میں نکلنے پر معلوم ہوئی کہ ہمارے تاجروں کو کورونا سے بچنے کی بجائے صرف پیسے کمانے کی ہوس ہے اور اس کے لیے وہ قیامت کے دن تک کا سودا بھی کر لیں گے کہ چلو قیامت سے ایک دن قبل ریٹ بڑھا کر پیسے کما لیں۔

ماسک کی تیاری 100 فی صد غیر تسلی بخش ہے اور اسے بیچنے کے عوامل سراسر جھوٹ اور بے ایمانی پر مبنی ہیں میں خود ماسک بیچ کر دو وقت کی روٹی گھر لے جاتا ہوں مگر میں چونکہ سب سے پہلے قلم کا سپاہی ہوں اس لئے بتانا یہ مقصود ہے۔
کہ
سوئے ہوئے حکمران اور تاجر دیگر معاملوں کی طرح ماسک کے معاملے پر بھی عوام کو الو بنا رہے ہیں۔
بقول فردوس عاشق اعوان ہمیں اپنی اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے ٹھیک اسی طرح ہمیں اور
آپ کو اس وقت یہ دیکھنا مقصود ہے کہ ہمارا ماسک واقعی تسلی بخش ہے یا ہم ماسک کے ساتھ ساتھ
کورونا بھی خرید رہے ہیں۔

یاد آیا 3 ہزار مریضوں اور 92 ہلاکتوں کے بعد فیصل آباد میں بھی لاک ڈاون
سوری سمارٹ لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ماسک بہت ضرور ہیں

ماسک لازمی پہنیں اور احتیاط کریں ایسا حکومتی اشتہارات میں آتا ہے

تاجروں کی در پردہ دوست حکومت سے سوال ہے

میرے ہاتھ سے بنا ماسک پہنوں؟؟؟
یا چائینہ نے جو ماسک عوام کو بھجوائے تھے وہ ملے گا؟؟؟؟

چائینہ سے آیا ماسک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے لیکن ہمارے حکمران ایماندار ہیں

آپ سب لوگ اپنا اپنا ماسک چیک کریں ، جب تک آپ میڈیا انڈسٹری کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے تب تک میں مزدوری کروں گا


شیئر کریں: