دنیا بھر میں انتخابات خفیہ ایجنسیوں کے بغیر ممکن نہیں‌

شیئر کریں:

تحریر شہزادہ احسن اشرف شیخ

وردی والے صرف چوکیدار نہیں بلکہ آپ اور میرے جیسے اس وطن کے بیٹے ہیں انہیں بھی ہمارا عظیم
وطن پالتا ہے جو ہم سب کے لیے باپ کا درجہ رکھتا ہے۔
ان وطن کے محافظوں پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے ہمیں اپنے وطن کے بیٹوں
پر انگلی اٹھانے سے پہلے چند حقائق پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اگر ملک کے سیاست دان کرپٹ ہوں؟
عدالتیں آئین پاکستان سے ہٹ کر سیاست میں مداخلت کرتی ہوں تو ملکی سلامتی اور دفاع کی
زمہ دار فوج کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کیوں کی جاتی ہے؟

ملک کی خود مختاری اور سلامتی کی علمبردار پاک فوج ہے

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کی خود مختاری اور سلامتی کی علمبردار پاک فوج اندورنی اور
بیرونی خطرات سے آگاہ ہے۔
ملک اور عوام کی بہتری اور انہیں سازشوں سے بچانے کے لیے اگر پاکستان کی خفیہ ایجنسی
“آئی ایس آئی” سیاست میں دخل اندازی کرتی ہے تو اس میں حرج کیا ہے؟

پاکستان دشمنی میں مولانا بہت آگے نکل گئے

جب ہمارے سیاست دان (یہاں ضمیر فروشوں‌ کی بات ہو رہی ہے) بھارت، امریکا اور افغانستان کی
خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بکنے لگیں.
دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی ناپاک کوشش کریں تو “آئی ایس آئی”
کی زمہ داری بنتی ہے کہ ملکی سلامتی کی خاطر وہ معاملات میں مداخلت کرے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں اداروں‌ کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تو پھر سب کو عہد کرنا ہوگا
ضمیر فروش سیاست دان ملک کے ساتھ غداری کرنا چھوڑ دیں گے۔
جس دن سیاست دان الیکشن میں دھاندلی کر کے بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” اور امریکی “سی آئی اے”
کے مفادات کا تحفظ کرنے کوشش چھوڑ دیں گے اس دن پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی بھی سیاست
میں مداخلت کرنا چھوڑ دے گی۔

آئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت حرام اور سیاست دانوں کی ملک سے غداری حلال؟

حرام فعل کی انجام دہی روکنے اور راہ راست پر آنے تک افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف
زہر اگلنے والوں‌کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے۔
آئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت کی مخالفت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی صفوں میں
موجود ان غداروں کو سیاست سے نکالیں جو “این ڈی ایس”، “را” اور “سی آئی اے” کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس ملک کی بدقسمتی

کیا میمو گیٹ اسکینڈل، نواز شریف، زرداری، الطاف حسین، اسفندیار اور اچکزئی کا بیانیہ اور
سی آئی اے سے رابطے حلال ہیں؟
اب ہم آپ کو بتاتے ہیں آئی ایس آئی ہے کیا دراصل یہ ادارہ مارخور کی مانند کام کرتا ہے۔
مارخور کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سانپوں کو ان کے بلوں‌ سے ڈھونڈ کر ان کا سر کچل دے۔
چاہے یہ سانپ تحریک طالبان، ایم کیو ایم یا پھر کسی بھی شکل میں‌ موجود گینگ سے تعلق رکھتے ہوں۔

تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں جب عوامی رائے کو خرید لیا گیا اور شیخ مجیب الرحمن کا فریب
بھی پکڑا گیا جب غداروں کو پھانسی دینے کے بجائے منتخب کیا جاتا ہے تو ڈھاکا فال جیسے
سانحے جنم لیتے ہیں۔
میں یہاں‌ یہ بھی واضح کردوں‌ کہ امریکا میں بھی انتخابات سی آئی اے کے بغیر نہیں ہوتے۔
اسی طرح “کے جی بی” روس میں حکومت منتخب کرتی ہے۔
کیا آپ “ایم آئی 5” کی برطانیہ سے ناواقف ہیں؟
یا آپ بھارت میں “را” کے اثر و رسوخ کو نہیں جانتے؟
اگر دیگر ممالک میں خفیہ ایجنیسوں‌ کا کردار حلال ہے تو پھر پاکستان میں‌ آئی ایس آئی
کردار حرام قرار دینے والے یہ کون لوگ ہیں؟

دنیا بھر کے ممالک میں افواج پر تنقید کی اجازت نہیں دی اب سوال تو یہاں‌ بنتا ہے کہ کیا پاکستان
دنیا سے الگ تھلگ ملک ہے؟
بیشتر ممالک میں اگر کوئی ایسا کرنے کی جرت کرتا ہے تو اسے سیدھا جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
افواج کے خلاف بولنے والوں کے خلاف اسکینڈلز بنائے جاتے ہیں ان کے کیریئر تباہ کردیے جاتے ہیں
حتی کہ انہیں حادثوں میں مروا بھی دیا جاتا ہے۔

یہ سفر مشکل ہوگا

افسوناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو گزشتہ دو دہائیوں سے بے جا تنقید کا سامنا ہے۔
امریکا میں حال ہی میں ریٹائرڈ سی آئی اے ڈائریکٹر کو ملک کا وزیر خارجہ لگا دیا جاتا ہے کیا کسی نے
اس پر اعتراض کیا؟
اسرائیلی فوج سیاست اور حکومت کا حصہ ہے لیکن اگر ریٹائرڈ آئی ایس آئی کے لوگ حکومت میں
شامل ہو جائیں تو پاکستان اور دنیا میں شور مچ جاتا ہے۔

ارض وطن اور اس کی افواج کے خلاف بات کرنے والے ایک بار پھر سن لیں۔
پاک فوج اور آئی ایس آئی سیاست میں اس وقت تک مداخلت کرتے رہے گی جب تک بیرونی قوتوں
اور دشمن ممالک کی ایجنسیوں‌ کی پاکستان کی سیاست میں مداخلت ختم نہیں کر دی جاتی۔
اسی طرح جب تک ملک کے سیاست دان غدار ہوں گے تو ان غداروں کے سر مارخور کچلتا رہے گا۔
وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنا قومی فریضہ ادا کرنا چاہیے اور بے ضمیر غداروں کو بے نقاب
کرنے کے لیے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔
میری آخر میں‌ بس یہی گزارش ہے کہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے اس پیغام کو سب لوگوں
تک عام کیا جائے۔
یاد رکھیں ہم سب پاکسستانی ہیں!!!!
ہم سب پاک فوج ہیں ہم سب آئی ایس آئی ہیں۔
پاکستان آرمی زندہ باد
پاکستان زندہ باد

موصوف سابق چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے اور
سابق وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رہ چکے ہیں


شیئر کریں: