لہو لہان جموں کشمیر اور لاپتہ افراد کا عالمی دن

شیئر کریں:

تحریر ہارون رشید طور

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 30 اگست کو لاپتہ افراد (یا جبری خفیہ حراست میں لیے
جانے والے) افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
لاپتہ افراد کا عالمی دن پہلی بار لاطینی امریکا کے ملک کو سٹاریکا میں خفیہ حراست کے
خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے 1981ء میں منایا گیا۔
جس کے بعد ہر سال 30اگست کو یہ دن منایا جانے لگا اور آج تک اقوام متحدہ کے
زیر اہتمام ہر سال منایا جارہا ہے۔
اس دن تقریبات، سیمینار، جلسے، احتجاج اورٹی وی انٹریوز کے بعد لاپتہ افراد اور ان کے
بے بس و مجبور لواحقین کو ایک سال کے لیے بھلا دیا جاتا ہے۔

لیکن وہ جن کے باپ، بہن، بھائی ،خاوند اور بچے لاپتہ ہو جائیں وہ کہاں بھولتے ہیں۔
ان کی تو آنکھوں میں اپنوں کی تصویریں گھوم رہی ہوتی ہیں جو ان کو ایک بھی پل چین لینے نہیں دیتیں۔
کہتے ہیں کہ کوئی اپنا مر جائے تو صبر آجاتا ہے لیکن گم ہو جائے تو صبر نہیں آتا۔
لمحہ بہ لمحہ دل بھر آتا ہے ان کی یاد میں ہر وقت ان کا انتظار رہتا ہے۔
اس کرب کو وہی محسوس کر سکتے ہیں جن کا اپنا کوئی بچھڑ جائے گم ہو جائے یا لاپتہ ہو جائے۔
روئے زمین پر جبری خفیہ حراست میں لیے جانے والے علاقوں میں فلسطین کے بعد بھارت کے
زیر تسلط کشمیر کا نام سرفہرست ہے۔
کشمیر کا نام سنتے ہی جنگ، لاشیں، حراستیں ، جبری گمشدگیاں، حراستی قتل، املاک کی
تباہی و بربادی، پیلٹ گن سے چھلنی، بے بینائی لوگ، ظلم وجبر کے سائے میں پلتی ہوئی
زندگیاں، لاپتہ شوہروں کی منتظر “نصف بیوہ خواتین”۔

انتظار میں بیٹھی وہ ماں جس کا بیٹا قابض فوج کے تاریک عقوبت خانوں میں مار دیا گیا۔
اجتماعی قبریں اور عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ذہن میں آتی ہیں۔
کشمیر جو کبھی ایشیا کا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا تھا دہائیوں سے دنیا کے خطرناک ترین
تنازعے کا مرکز بناہوا ہے۔
کشمیر پر اسلامی دنیا کی بڑی قوت پاکستان اور خطے کے اہم ترین ملک ہندوستان کے مابین
تین جنگیں ہو چکی ہیں۔
دونوں ممالک کے عوام کے سروں پر ایٹمی جنگ کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔
اس جبر و تشدد کو ریاستی سرپرتی حاصل ہے آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے مطابق ہندوستانی
قانون کسی شخص کو دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کی اختیار دیتا ہے۔

اس کالے قانون کے تحت کوئی فوجی کسی مشکوک فرد پر گولی چلا سکتا ہے۔
مشتبہ مکان کو نذر آتش کر سکتا ہے، بغیر وارنٹ کسی بھی مکان میں داخل ہو کر گرفتار کر سکتا ہے۔
ان تمام کارروائیوں کے لئے وہ قابل گرفت بھی نہیں۔
یہ دنیا کا سب سے زیادہ ملٹرائزڈ خطہ ہے فوج کے لا محدود اختیارات کے باعث کسی کی جان و مال
اور عزت محفوظ نہیں۔
نہتے جموں و کشمیر کے عوام خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی گٹھ پتلی حکومت اور نابینا عدالتیں کشمیر کی مظلوم عوام بھارت کی ریاستی
دہشت گردی دے تحفظ دینے میں بالکل ناکام ہو چکی ہیں۔
موذی مودی کی فاشسٹ حکومت کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ہر حربہ آزما رہی ہے۔
عالمی قوتیں بھارتی مظلوم سے آگاہ ہونے کے باوجود آنکھیں موندے پڑے ہیں۔
مقبوضہ وادی میں جاری لاک ڈاؤن کو ایک سال گزر جانے کے باوجود بھارت پر دباؤ بڑھانے کیلئے آمادہ نہیں۔
پاکستان ہر فورم پر مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی داستان سنا رہا ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے لوگ اپنے ہی ملک میں ’’اغوا ‘‘ہو جائیں “لاپتہ” ہو جائیں عوام کس کے پاس جائیں؟
جب حکومت ہی ان کو تحفظ نہ دے سکے؟
پھرعدالتیں کس لیے ہیں؟
وہاں مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا ؟
کسی شخص کو محض الزامات کی بنیاد پر اٹھاکر غائب کردینا کہاں کا انصاف ہے؟
قانون کسے کہتے ہیں؟
اگر لاپتہ افراد اگر کسی جرم میں ملوث ہیں، مجرم ہیں تو اسے قانون کے حوالے کیا جانا چاہیے۔
ماورائے قانون ان کو غائب کر دینا، ان کی لاشوں کا ملنا اس پر احتجاج کرنے والوں کو بھی تشدد کا
نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس پر شک ہو اسے اٹھا لیا جائے اور پھر غائب کر دیا جائے۔
گھر والوں کو علم ہی نا ہو کہ ان کو زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا۔
اس ظلم و بربریت پر خاموش ممالک بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

عالمی برادری کو کوسٹاریکا کے مظالم تو نظر آگئے لیکن 1947 سے جموں و کشمیر کے عوام کسی
کو دیکھائی نہیں دیتے۔


شیئر کریں: