لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا،تجربہ کار حکومت عوام کو ریلیف دینے میں‌ ناکام

شیئر کریں:

تین تین بار حکومت کرنے والی اتحادی حکومت سے بھی ملک نہیں‌ سنبھل رہا ہے. مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے
لوگوں‌ کی زندگی اجیرن کر دی ہے . ہر شخص‌ حکومت کو دہائی دے رہا ہے. اسلام آباد ہو یا کراچی اور لاہور
لوڈشیڈنگ ٹکا کے کی جارہی ہے.
ملک کے دارالحکومت کے ایک دو علاقوں‌ کو چھوڑ کے باقی ہر سیکٹرز میں‌ کم از کم چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ
تو کی جارہی ہے. کراچی اور ملک کے دیگر حصوں‌ میں‌ اس کا دورانیہ 14 گھنٹے تک جا پہنچا ہے.
وزیراعظم شہباز شریف نے میٹھی عید پر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا
ہوجائے.

بجلی بنانے اور کمپنیز کو دینے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں‌ لیکن پھر بھی ہوا اور سولر کے ذریعے
بجلی بنانے کو تیار نہیں. پاکستان میں‌ ہم ہوا کے ذریعے بجلی بنا کے اپنی ضروریات باآسانی پوری کرسکتے
ہیں‌ لیکن اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں.
دوسری جانب سولر ہی کو لے لیجیے لوگوں‌ نے اپنے گھروں‌ پر سولر لگانے شروع کیے تو وہ بھی مہنگے
کر دیے گئے. کم از کم اس پر سے تو ڈیوٹی ختم کردینی چاہیے.
عوام کا کہنا ہے کہ آخر حکومت کب سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی؟ کیا یہ لوگوں‌ کے سڑکوں پر نکلنے کا انتظار
کر رہی ہے؟ اب بھی وقت ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے وقت دور نہیں‌ جب مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے مارے
عوام اپنے آپسی اختلافات بھلا کر باہر نکلیں‌اور پھر سب کو مٹا دیں‌ گے.


شیئر کریں: