لندن کی بس میں‌ دوران سفر خاتون کا برقعہ جلانے کی کوشش

شیئر کریں:

برطانیہ میں‌ حجاب کرنے والی مسلمان خواتین کا باہر نکلنا مشکل بنا دیا گیا ہے برقعہ یا نقاب لگا
کر باہر نکلنے والی خواتین کو غیر اخلاقی جملوں‌ کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

برطانوی اخبار دی مرر کے مطابق ایک 47 پردہ دار خاتون سواد محمد کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں
اسلامو فوبیا کے سب سے خطرناک ترین علاقہ میں‌ ہر وقت خوف کا شکار رہتی ہیں.

روزآنہ انہیں‌ مسلمانوں‌ سے نفرت کا اظہار کرنے والوں کے جملے برداشت کرنے پڑتے ہیں‌ گزشتہ سال انتہا پسندوں
نے میرا برقعہ ہی جلا دیا تھا.

متاثرہ خاتون لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر میں‌ رہائش پزیر ہیں اسلامو فوفیا اور نفرت آمیز واقعات کا یہ
علاقہ گڑھ رہا ہے
خاتون کاکہنا ہے کہ اکثر انہیں‌ اوباش نوجوانوں‌‌کی‌جانب‌سے‌‌آئی ایس آئی ایس کی دلہن اور اسامہ بن لادن کی
بیوی کہہ کر پکارا جاتا ہے.

ویسٹ‌ منسٹر ہی میں‌ پیدا ہونے والی خاتون کے لیے یہ جگہ جہنم سے کم نہیں‌ رہی، ان کا کہنا ہے وہ
تنہا اگلی گلی تک نہیں‌ جا سکتی باہر نکلتے وقت کسی کو ساتھ رکھنا پڑتا ہے.

خاتون کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بس میں‌ سفر کے دوران بعض‌ افراد نے میری نقاب پیچھے سے جلانے
کی کوشش کی لیکن بروقت میرے ردعمل سے میں بچ گئی.

ویسٹ منسٹر کے اس علاقے میں یکم ستمبر 2020 سے رواں‌ سال اگست کے دوران اسلامو فوبیا
کے 85 واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں‌ اس کے علاقہ برطانیہ کے دیگر شہروں میں‌ مزہبی منافرت پر
مبنی بے شمار کیسز منظر عام پر آچکے ہیں.

خاتون کا کہنا ہے دنیا کے معزز ترین ملک میں‌ مذہبی منافرت پر مبنی واقعات کا ہونا برطانیہ کے چہرے پر
کلنک کا ڈیکہ ہیں


شیئر کریں: